تازہ ترین
طیارے کی حادثے کی وجہ سے چترال میں ماحول انتہائی اداس اور فضا غم سے بوجھل رہا ، تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر، کاروباری مراکز تعلیمی اداروں سمیت مکمل طورپر بند رہے


شرکت کرنے اسلام آباد جارہے تھے۔ وہ دس بیٹوں اور دو بیٹیوں کا باپ تھے۔ چترال ٹاؤن کے ژانگ بازار سے تعلق رکھنے والی شمشاد بیگم صرف تین دن پہلے اپنی پاسپورٹ کی تجدید کرانے کے لئے فیصل آباد میں اپنی سسرال سے چترال آئی تھی ۔ چترال ٹاؤن کے گولدور کی رہائشی حاجی نواز گورنمنٹ کنٹریکٹر تھے اور ایک ضروری کام کے سلسلے میں اسلام آباد جارہے تھے ۔سلمان زین العابدین سابق ایم پی اے اور پی پی پی کے سابق ضلعی صدر زین العابدین کا بیٹا تھا جو کہ صرف ایک ہفتہ قبل ہاشو فانڈیشن کا چترال میں ریجنل پروگرا م منیجر مقرر ہوا تھا اور ایک میٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد جارہے تھے۔ درو ش سے تعلق رکھنے والی
عائشہ عثمان نے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے کیمسٹری میں ایم۔ فل کی تھی اور پی ایچ۔ ڈی کے لئے انگلینڈ جارہی تھی۔ زئیت سے تعلق رکھنے والے محمد علی پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ میں ملاز م تھے اور دفتر ی کام میں پشاور جارہے تھے۔ چترال سے تعلق رکھنے والوں میں جن کی شناخت اب تک ہوگئی ہے ، ان میں حاجی محمد تکبیرخان، شہزادہ فرہاد عزیز، حاجی نواز شامل ہیں۔ درین اثناء چترال کے مختلف سیاسی رہنماؤں نے طیارے کی خرابی اور حادثے کو پی آئی اے انتظامیہ کی نااہلی قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ ان میں چترال سے ممبران صوبائی اسمبلی سید سردار حسین اور سلیم خان ،اے این پی ملاکنڈ ڈویژن کے جائنٹ سیکرٹری خدیجہ سردار شامل ہیں۔