جہانِ خیال…..پاکستان میں عدالتی نظام اور تھانہ کلچر: انصاف یا مایوسی کا سفر؟…… تحریر: عتیق الرحمن

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں آئین، قانون، عدالتیں اور ریاستی ادارے بظاہر ایک مضبوط نظام کی شکل میں موجود ہیں، مگر عام شہری کے لیے انصاف تک رسائی آج بھی ایک طویل، پیچیدہ اور صبر آزما سفر بن چکی ہے۔ کتابوں میں قانون کی حکمرانی کے دعوے ضرور ملتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی آج بھی خود کو غیر محفوظ، بے سہارا اور نظام کے رحم و کرم پر محسوس کرتا ہے۔ ریاست کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہے، مگر جب یہی تحفظ سوالیہ نشان بن جائے تو پھر عوام کے دلوں میں ریاست پر اعتماد کمزور ہونے لگتا ہے۔
میرا ذاتی مشاہدہ دو مختلف تھانوں کے نظام کے ساتھ رہا ہے۔ اسلام آباد کا تھانہ کلچر اور وہاں کا بعض پولیس اہلکاروں کا رویہ ایک غریب آدمی کے لیے اکثر اذیت سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ انصاف تک رسائی مشکل دکھائی دیتی ہے اور بعض اوقات سفارش، اثر و رسوخ اور مالی حیثیت عام شہری کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام آباد پولیس میں بہت سے دیانت دار، فرض شناس اور اچھے افسران و اہلکار بھی موجود ہیں، مگر مجموعی طور پر ایک عام آدمی خود کو اکثر بے بس محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شہری کو ظلم، ناانصافی اور اختیارات کے غلط استعمال سے محفوظ رکھے۔
اس کے مقابلے میں چترال پولیس کا رویہ نسبتاً نرم، مہذب اور انسان دوست محسوس ہوتا ہے۔ چترالی مزاج میں شرافت، نرم دلی اور برداشت زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ وہاں کے اہلکاروں کی زبان، اخلاق اور گفتگو کا انداز واقعی قابلِ تعریف ہے، جس کی وجہ سے سائل خود کو کچھ حد تک پُرسکون محسوس کرتا ہے۔ تاہم ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ایف آئی آر کے اندراج میں تکنیکی پیچیدگیاں پیدا کی جاتی ہیں اور قانونی معاملات میں ایسے مشورے دیے جاتے ہیں جو مکمل انصاف کے بجائے صرف معاملہ نمٹانے کی طرف لے جاتے ہیں۔
چترالی معاشرے میں اکثر لوگ جھگڑوں سے بچنے اور معاملات کو صلح سے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہی نفسیات ظلم برداشت کرنے اور ناانصافی پر خاموش سمجھوتہ کرنے کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ کئی لوگ اپنی جھوٹی انا، معاشرتی دباؤ یا تعلقات کی خاطر حق کے لیے آخری حد تک کھڑے ہونے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات مظلوم انصاف سے محروم اور ظالم دوبارہ طاقتور ہو جاتا ہے۔ سفارش اور اثر و رسوخ کا عنصر بھی کئی معاملات میں اثر انداز ہوتا دکھائی دیتا ہے، اور بعض کیسز میں فریقین کو اس انداز سے صلح پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ اصل انصاف پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
پاکستان میں کسی بھی مظلوم شہری کا پہلا سامنا تھانے سے ہوتا ہے۔ اصولی طور پر تھانہ عوام کی حفاظت اور فوری داد رسی کا مرکز ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں “تھانہ کلچر” خوف، سفارش، طاقت اور ذلت کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ ایک غریب آدمی جب اپنی فریاد لے کر تھانے جاتا ہے تو اسے اکثر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ انصاف صرف طاقتور اور بااثر طبقے کے لیے ہے۔ شکایت درج کروانا ایک عام قانونی حق نہیں بلکہ ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے، جہاں بعض اوقات سائل کو گھنٹوں بلکہ دنوں تک انتظار، بے رخی اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں پولیس کے نظام پر عوامی اعتماد مسلسل کمزور ہوا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ وہ رویہ ہے جو اکثر عام شہریوں کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے۔ کہیں سفارش دیکھی جاتی ہے، کہیں سیاسی اثر و رسوخ، اور کہیں دولت انصاف کا راستہ متعین کرتی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مزدور، کسان یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شہری اکثر خود کو اس نظام میں تنہا محسوس کرتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جب ایک شہری تھانے سے مایوس ہو کر عدالت کا رخ کرتا ہے تو وہاں بھی اسے فوری انصاف نہیں ملتا۔ عدالتیں کسی بھی ریاست میں انصاف کی آخری امید سمجھی جاتی ہیں، مگر پاکستان میں لاکھوں مقدمات برسوں سے زیر التوا پڑے ہیں۔ ایک مقدمہ جو چند مہینوں میں حل ہونا چاہیے، وہ کئی کئی سال تک عدالتوں میں گھومتا رہتا ہے۔ تاریخ پر تاریخ ملنا، وکلا کی بھاری فیسیں، پیچیدہ قانونی کارروائیاں اور فیصلوں میں تاخیر ایک عام شہری کی زندگی کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہیں۔
ایک غریب شخص جو اپنے حق کے لیے عدالت جاتا ہے، وہ اکثر اپنا وقت، سرمایہ، سکون اور بعض اوقات اپنی امید تک ہار بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ انصاف صرف طاقتور طبقے کی پہنچ میں ہے، جبکہ غریب آدمی کے لیے قانون صرف ایک کاغذی تحریر بن کر رہ گیا ہے۔
پاکستان میں انصاف کی تاخیر اب صرف قانونی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک سنگین سماجی اور نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جب ایک شہری کو یقین ہو جائے کہ اسے بروقت انصاف نہیں ملے گا تو اس کے دل میں خوف، غصہ اور بے اعتمادی جنم لیتی ہے۔ یہی بے اعتمادی آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان بندوق اٹھانے یا تشدد کے راستے پر چلنے کا شوق نہیں رکھتا۔ ہر شخص امن، عزت اور سکون کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ مگر جب ایک شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، جب اس کی جان و مال کو خطرہ ہو، جب اسے ریاستی اداروں سے تحفظ نہ ملے، تو پھر بعض لوگ اپنی حفاظت خود کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے خطرناک اشارہ ہوتی ہے۔
ریاست کی کمزوری وہاں ظاہر ہوتی ہے جہاں عوام قانون پر اعتماد کھو بیٹھیں۔ اگر شہریوں کو یقین نہ رہے کہ پولیس ان کی حفاظت کرے گی اور عدالتیں انہیں انصاف دیں گی، تو پھر معاشرے میں لاقانونیت، خوف اور طاقت کے غیر متوازن استعمال کو فروغ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انصاف کے کمزور نظام والے معاشروں میں جرائم، بداعتمادی اور سماجی انتشار زیادہ بڑھتا ہے۔
پاکستان میں مسئلہ صرف چند افراد یا چند اداروں کا نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کا ہے۔ پولیس اصلاحات، جدید تفتیشی نظام، میرٹ پر تقرریاں، عوام دوست رویہ اور سخت احتساب کے بغیر تھانہ کلچر تبدیل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح عدالتی اصلاحات، فوری فیصلے، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور مقدمات کے جلد نمٹانے کے مؤثر نظام کے بغیر انصاف کی فراہمی ممکن نہیں۔
ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا راز صرف ان کی معیشت نہیں بلکہ ان کے مضبوط ادارے اور فوری انصاف کا نظام ہے۔ وہاں ایک عام شہری کو یقین ہوتا ہے کہ قانون اس کے ساتھ کھڑا ہے، اسی لیے معاشرہ پُرامن اور مستحکم رہتا ہے۔ اس کے برعکس جہاں انصاف کمزور ہو جائے، وہاں طاقتور مزید طاقتور اور کمزور مزید کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔
پاکستان جیسے حساس ملک میں جہاں پہلے ہی غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے مسائل موجود ہیں، وہاں انصاف کے نظام کی کمزوری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ایک عام آدمی صرف دو وقت کی روٹی نہیں چاہتا بلکہ وہ عزت، تحفظ اور انصاف بھی چاہتا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہری کو یہ بنیادی حق دینے میں ناکام ہو جائے تو پھر قوموں کے اندر مایوسی جنم لیتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست محض دعووں اور بیانات سے آگے نکلے اور عملی اقدامات کرے۔ تھانوں کو عوام دوست بنایا جائے، پولیس کو سیاسی دباؤ سے آزاد کیا جائے، عدالتی نظام میں جدید اصلاحات لائی جائیں اور عام شہری کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ کیونکہ انصاف صرف عدالتوں کے فیصلوں کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا اعتماد ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان رشتہ مضبوط کرتا ہے۔
اگر آج بھی ہم نے انصاف کے نظام کو مضبوط نہ کیا تو آنے والے وقت میں عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا یہ فاصلہ مزید بڑھ جائے گا۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں کمزور شخص بھی بلا خوف اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکے۔ پاکستان کو اگر واقعی ترقی، امن اور استحکام کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو اسے اپنے عدالتی نظام اور تھانہ کلچر میں انقلابی اصلاحات لانا ہوں گی۔ ورنہ انصاف ایک خواب، قانون ایک مذاق اور عام آدمی ہمیشہ خوف اور مایوسی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے گا۔



