خیبرپختونخوا اسمبلی نے کے پی ایمپلائزریگولرائزیشن سروس، سی ڈی سٹیج ڈراموں کے لیے سنسرشپ بورڈ کے قیام اورخیبرپختونخوایونیورسٹیزترمیمی بل کی متفقہ طور پرمنظوری دیدی

خیبرپختونخوا اسمبلی نے کے پی ایمپلائزریگولرائزیشن سروس، سی ڈی سٹیج ڈراموں کے لیے سنسرشپ بورڈ کے قیام اورخیبرپختونخوایونیورسٹیزترمیمی بل کی متفقہ طور پرمنظوری دیدی۔
سپیکرخیبرپختونخوا اسد قیصر کی سربراہی میں منعقدہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں چترال سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ کم ہونے کے خلاف خیبر قرارداد منظورکی گئی۔
قرارداد پیپلز پارٹی کے رکن سلیم خان نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ چترال کی سیٹ کم ہونے کے باعث مقامی شہریوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے اور اگر حلقہ بحال نہ ہوا تو چترال کے لوگ 2018 کے عام انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔
اجلاس میں بلین ٹری منصوبے پر بحث کرتے ہوئے پی پی پی کے ایم پی اے ضیا اللہ آفرید ی نے کہا کہ بلین ٹری منصوبے کے گھپلوں کو چھپانے کے لئے صحافیوں کو خریدنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کرپشن ختم کرنے کے دعوے کر رہے ہیں،دوسری جانب کرپشن چھپایا جا رہاہے، سپیکر رولنگ دیں کہ منصوبے کی انکوائری کی جائے۔
صوبائی وزیر مشتاق غنی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے بلین ٹری منصوبے کی تعریف کی ہے اور ادھر الزام لگایا جاتا ہے کہ 25 روپے فی پودا خریدا گیا جبکہ صوبائی حکومت نے دو روپے کا ایک پودا خریدا ہے۔
اجلاس میں کے پی ایمپلائز ریگولرائزیشن سروس بل منظور کر لیا گیا جس کے تحت صوبے کے 58 پراجکٹ کے 4 ہزار سے زائد ملازمین کے علاوہ 158 ڈاکٹرز کی مستقلی کی منظوری بھی دی گئی۔
خیبرپختونخوا اسمبلی نے سی ڈی سٹیج ڈراموں کے سنسرشپ بورڈ کے قیام کے حوالے سے بھی بل پاس کر لیا۔
بل کے مطابق کوئی بھی سٹیج ڈرامہ،سی ڈی یا فلم بورڈ کے اجازت کے بغیر پیش نہیں کیا جائے گا جبکہ سنسر بورڈ مذہب،ملک اور سکیورٹی اداروں کے خلاف مواد کو نشر کرنے سے روکنے کا مجاز ہو گا۔
اس کے علاوہ خیبر پختو نخوا یونیورسٹیز ترمیمی بل بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔



