شہبازشریف کو (ن) لیگ کا قائم مقام صدر اور نوازشریف کو تاحیات قائد بنانے کی منظوری

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ (سی ڈبلیو سی) نے شہبازشریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر اور نوازشریف کو تاحیات قائد بنانے کی منظوری دے دی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 21 فروری کو انتخابی اصلاحات 2017 کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو پارٹی صدارت کے لیے نااہل قرار دیا تھا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کی دفعہ 62، 63 پر پورا نہ اترنے والا نااہل شخص کسی سیاسی جماعت کی صدارت نہیں کرسکتا۔
مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس 180 ایچ ماڈل ٹاؤن لاہور میں ہوا جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم نواز اور دیگر مرکزی رہنما شریک تھے۔
اجلاس میں پارٹی صدر کے نام پر مشاورت کی گئی اور اس دوران میاں نوازشریف نے پارٹی صدارت کے لیے شہبازشریف کا نام تجویز کیا۔
مسلم لیگ (ن) کی مرکزی مجلس عاملہ نے شہبازشریف کو پارٹی کا قائم مقام صدر بنانے کی منظوری دی جس کے بعد وہ بلا مقابلہ قائم مقام صدر منتخب ہوگئے جبکہ مرکزی مجلس عاملہ نے میاں نوازشریف کو پارٹی کا تاحیات قائد بنانے کی بھی منظوری دی۔
مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے ان فیصلوں کا اعلان کیا جبکہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر نوازشریف کو تاحیات قائد بنائے جانے کی خبر دی۔
شہبازشریف نے بلا مقابلہ پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب ہونے پر کھڑے ہوکر سب کا شکریہ ادا کیا۔
دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی جنرل کونسل کا اجلاس 45 روز کے اندر بلایا جائے گا جس میں شہبازشریف کو مستقل صدر بنانے کی منظوری لی جائے گی۔
ادھر مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما اور سی ای سی کے رکن چوہدری نثار اسلام آباد میں موجود ہیں اور وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
ذرائع کے مطابق سی ای سی اجلاس سے قبل نوازشریف سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں ملاقات کی جس میں شہبازشریف بھی موجود تھے جب کہ ملاقات میں سیاسی صورتحال، پارٹی معاملات اور سینٹ الیکش پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
خیال رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہاتھ دھونا پڑا تاہم پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ پارٹی کے صدر منتخب ہوئے جس کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا۔



