چترال گول نیشنل پارک میں سب سے ذیادہ متاثرہ گاﺅں شاہ میراندہ سنگور ہے جس کا حصہ اس پارک میں حصہ 60فیصد سے ذیادہ تھی/علاقے کے مکینوں کاپریس کانفرنس

چترال (نور افضل خان سے ) شاہ میراندہ سنگور کے باشندوں نے چترال گول نیشنل پارک وائلڈ لائف ڈویژن کے ڈی ایف او نعمت اللہ کی کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ غیر مہذب ، ناشائستہ ، غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ ورانہ روئیے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری تبادلے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو 3جنوری کا ڈیڈ لائن دیتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ اگر مذکورہ افیسر کو ہٹانے سمیت نیشنل پارک انتظامیہ اور علاقے کے درمیان طے شدہ معاہدے پر عملدرامد شروع نہیں ہوا تو وہ راست اقدام کرنے پرمجبور ہوں گے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویلج کنزرویشن کمیٹی سنگور اعجاز احمد ، جنرل سیکرٹری عبیدالرحمن، سوشل ویلفئر تنظیم کے صدر سمیع اللہ اور علاقے کے اکابریں امیر علی خان، مولانا نوراللہ، تقی الدین مدنی، امت محمد خان، حاجی رحمت قادر،سجاد احمد، فیض احمد، رحمت علی ، سجاد احمد ، صفی اللہ اور دوسروںنے کہاکہ چترال گول نیشنل پارک میں سب سے ذیادہ متاثرہ گاﺅں شاہ میراندہ سنگور ہے جس کا حصہ اس پارک میں حصہ 60فیصد سے ذیادہ تھی لیکن پارک کے قیام کے وقت اس گاﺅں کو دوسرے دس دیہات کے برابر حصے کا حقدار ٹھہرایا گیا جسے انہوںنے قبول کیا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس گاﺅںکو اب تک نظر انداز کیا جارہا ہے اور پارک انتظامیہ اس گاﺅںکے ساتھ معاہدے کی پاسداری میں ناکام ہے ۔ انہوں نے کہاگزشتہ دنوںجب ویلج کنزرویشن کمیٹی شاہ میراندہ سنگور کا نمائندہ وفد ڈی ایف او کے پاس گئے تو انہوں نے انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ اعلیٰ سرکاری افسر ہیں اور کمیونٹی کے ساتھ ان کاکوئی کام نہیں ہے جوکہ ان کی پبلک سرونٹ کی منافی اور قابل مواخذہ حرکت ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل پارک کے مقامی سربراہ کا رویہ ان کی ذہنی پستی کا عکاس ہے جس سے ہر کوئی اندازہ لگاسکتا ہے کہ ان کی زیرنگرانی دنیا بھرمیں مقبول یہ چترال گول نیشنل پارک کا مستقبل کیا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ عدالت نے 1994ءمیں حکومت کے خلاف کیس میں اہالیان سنگور کے حق میں فیصلہ دیا تھااور 2003ءمیں ورلڈ بنک کی مالی تعاون سے نیشنل پارک کے ایک پراجیکٹ میں بھی اس گاﺅںکے ساتھ خصوصی معاہدہ ہو ا تھا مگر یہ اب تک ایفا نہیں ہوا ۔ انہوںنے کہاکہ 3جنوری کا ڈیڈ لائن ختم ہونے پر مطالبات پورا نہ ہونے کی صورت میں وہ نیشنل پارک میں اپنے حصے پر دوبارہ قبضہ کرکے اسے قدیم روایت کے مطابق استعمال میں لائیں گے۔ اہالیان شاہ میراندہ کا کہنا تھا کہ اس گاﺅںمیں ابھی تک نیشنل پارک کے لئے ایک ملازم بھی بھرتی نہیں ہوا اور گزشتہ دنوں ایک چوکیدار کی اسامی خالی ہونے پر گاﺅں کے ایک بے روزگار باشندے کی طرف سے درخواست دی گئی لیکن یہ معمولی نوعیت کی نوکری بھی اس گاﺅںکو نہیں دی گئی۔ اس سے قبل سنگور کے سینکڑوں باشندوںنے ڈی ایف او چترال گول نینشل پارک وائلڈ لائف ڈویژن نعمت اللہ کے خلاف احتجاجی جلوس نکالاجوکہ محکمے کے خلاف نعرہ بازی کرتی ہوئی پریس کلب میں احتتام پذیر ہوئی۔



