101

صوبائی حکومت نجی شعبہ کے تعلیمی اداروں کی بھی بھرپورسرپرستی کرے گی۔عاطف خان

پشاور(نامہ نگار)خیبرپختونخوا کے وزیرابتدائی وثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے باچاخان ماڈل سکول پبی کے حکام کوہدایت کی ہے کہ وہ سکول کامعیار تعلیم بہترکرنے پر خصوصی توجہ دیں اور حکومتی امداد پرانحصار کرنے کی بجائے سکول کو اپنے پاؤں پر کھڑاکرنے کے لئے تمام ترممکنہ اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے مزیدہدایت کی کہ تمام ماڈل سکولوں کے امورمیں شفافیت لانے کے لئے ان کاریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیاجائے ۔یہ ہدایات انہوں نے جمعرات کے دن پشاورمیں باچاخان ماڈل سکول پبی نوشہرہ کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں اجلاس میں دوسروں کے علاوہ ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم قیصر عالم ،سابق صوبائی وزیر واے این پی کے جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین اور بورڈ کے دوسرے ارکان نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر سکول کی پرنسپل نے سکول کی کارکردگی پیش کرنے کے علاوہ سکول کے مسائل ومشکلات کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ سکول کی فیسیں اردگرد کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے کہیں کم ہیں لیکن اس کے باوجود کارکردگی کے لحاظ اس کامقابلہ ضلع کے بہترین اداروں سے کیا جاسکتاہے ۔انہوں نے مہنگائی کے تناسب سے اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کہ علاوہ فیسوں کو بھی حقیت پسندانہ بنانے کی سفارش کی ۔جس کی بورڈ نے منظوری دیدی۔وزیر تعلیم نے کہا کہ دیرپا ترقی کے لئے بچوں کو معیاری تعلیم سے آراستہ کرناوقت کی ضرورت ہے لہٰذا پی ٹی آئی حکومت تعلیم کی بہتری کے لئے انتھک کوششیں کررہی ہے اور اس مقصد کے لئے سرکاری سکولوں میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ کی بھی بھرپورسرپرستی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور انہیں بہتر اورروشن مستقبل دینے کے لئے معیاری اور بامقصد تعلیم سے آراستہ کریں گے۔ محمد عاطف نے کہاکہ اساتذہ تعلیم کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اورہماری کوشش ہے کہ سرکاری شعبے کے علاوہ نجی شعبے میں کام کرنے والے اساتذہ کی حالت زار بھی بہتر بنائیں اورانہیں بہتر سے بہتر پیکج دیں تاکہ وہ دلجمعی اوراطمینان کے ساتھ تعلیم عام کرنے میں اپنا اہم کردار اداکریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں