تازہ ترین
کالاش ویلی کے لوگوں نے حکومت کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار،ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت وادی کے لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی


جلسہ منعقد کیا ۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے قاری منیر احمد کونسلر قاری خلیل الرحمن نائب ناظم ،نظر گئے اقلیتی کونسلر اور وزیر کالاش نے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت وادی کے لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی ۔ گذشتہ سال کے سیلاب کے بعد لوگ سڑکوں کی وجہ سے انتہائی مشکلات کا شکار ہیں ۔ اور موجودہ سڑکوں پر سفر کرنا جان جوکھوں کا کام بن گیا ہے ۔ لیکن انتظامیہ اور محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو اس کا ذرا برابر احساس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ، کہ ایک سال سے مختلف حیلے بہانوں سے لوگوں کو ٹرخایا جارہا ہے ، اور سڑک کی بحالی پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ،انہوں نے کہا ۔ وادی کے مریضوں ، خواتین اور بچوں کی آمدورفت خراب اور خطرناک سڑکوں کے باعث بند ہو چکی ہے ۔ اور بروقت طبی سہولیات کی فراہمی و ہسپتالوں تک رسائی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات درپیش ہیں ۔ اور کئی بچے جان بحق ہو چکے ہیں ۔ مقررین نے کہا ۔ اگر حکومت اُن کو پاکستانی شہری تسلیم کرتا ہے تو اُن کی مجبوری پر توجہ دی جائے ۔ اور کھنڈر و پُر خطر سڑک و پُل کو صحیح معنوں میں تعمیر کیا جائے ۔ تاکہ کوشٹ پُل کی طرح انسانی جانیں ضائع نہ ہوں ۔ و زیر کالاش نے کہا ۔ کہ کالاش کمیونٹی کو دنیا کی منفرد تہذہب کے حامل قبیلہ قرار دیا جاتا ہے ۔ لیکن اُن کو آمدورفت کی سہولت فراہم کرنے کی بجائے اُن کوبے موت مارنے پر تُلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ، کہ اگر وادی کے لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا ناروا سلوک جاری رکھا گیا ۔ تو بمبوریت کی کالاش آبادی کے مردو خواتین و بچے صوبائی حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سی اینڈ دبلیو کے خلاف چترال شہر میں دھرنا دینے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ عوام کو اپنے جائز حق کیلئے احتجاج کرنے سے بھی روکا جا رہا ہے اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ۔ لیکن بمبوریت کے لوگ یہ ڈکٹیٹر شپ کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔ مقررین نے دوباژ پُل کوسرکاری گاڑیوں کیلئے کھولنے اور ٹیکسی گاڑیوں کیلئے بارڈر پولیس کے ذریعے بند کرنے کی پُر زور مذمت کی ۔ اور کہا ۔کہ اس سے پتہ چلتا ہے ، کہ ضلعی انتظامیہ جان بوجھ کر لوگوں کو تنگ کر رہا ہے ۔ اگر پُل ناقص ہے ۔ تو سرکاری گاڑیوں کو جانے کی اجازت کیوں دی جارہی ہے ۔ اور اگرپُل صحیح ہے ۔ تو عوام بمبوریت اور رمبورکیلئے اسے بند کرکے لوگوں کو کیوں مصیبت میں ڈالا جارہا ہے ۔