لواری ٹاپ پر متاثرہ ٹاور کی بحالی اور گولین بجلی بریک ڈاون کے مرتکب افراد کے خلاف فوری کاروائی کی جائے ۔ بصورت دیگر راست اقدام اٹھایا جائے گا ۔ حاجی مغفرت شاہ۔

 

چترال ( ڈیلی چترال نیوز) سابق ضلع چترال اور رہنما جماعت اسلامی چترال حاجی مغفرت شاہ نے کہا ہے ۔ کہ چترال کو بجلی بریک ڈاون سے دوچار کرنے والے واپڈا اہلکاروں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ اپنی جگہ پر موجود ہے ۔ اور جب تک ان افراد کو سزا نہیں ملے گی ۔ یہ لوگ قومی ملکیت کے عظیم منصوبہ گولین بجلی گھر کواسی طرح تباہ کرتے رہیں گے ۔ اس لئے ہمارار پرزور مطالبہ ہے ۔ کہ کسی سے بھی نرمی نہ برتی جائے ۔ اور ان کے خلاف بھرپور کاروائی کی جائے ، منگل کے رو ز انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ تین دن بجلی کے بریک ڈاون کے بعد لوگوں کا احتجاج اور روڈ کی بندش فطری آمر تھا ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے مظاہرین سے مذاکرات کئے ۔ اور بجلی بحال کی گئی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس وقت ہم نے ڈپٹی کمشنر سے اس بریک ڈاون کے مرتکب اہلکاروں کو کڑی سز ا دینے کا نے مطالبہ کیا تھا ۔ ہماری اس بات سے ڈپٹی کمشنر نے بھی اتفاق کیا تھا اور ہم اپنے اس مطالبے پر اب بھی قائم ہیں ۔ ضلع ناظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئےکہا ۔ کہ لواری ٹاپ پر ماہ دسمبر سے ایک ٹاور خراب ہے ۔ جس کی اب تک مرمت نہیں کی گئی ہے ۔ نتیجتا گولین کی بجلی چترال سے باہر ایکسپورٹ نہیں ہورہی ۔ اگر یہ ٹاور بحال ہوتا ۔ تو بجلی بریک ڈاون کی نوبت نہ آتی ۔ اور نہ بجلی گھر کو نقصان پہنچتا ۔ یہ محکمہ واپڈا کی غفلت ،نااہلی ،بدعنوانی اور کرپشن کی واضح مثال ہے ۔ کہ سات مہینے گزرنے کے باوجود اس ٹاور کی بحالی کا کسی بھی کو غم نہیں ہے ۔ اور چترال کی بجلی ضائع ہو رہی ہے ، انہوں نے کہا ۔ کہ لواری ٹاپ ٹاور فوری طور پر بحال کیا جائے ، اور بریک ڈاون کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا ۔ تو چترال کے عوام خود کاروائی کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ ادارہ اور ضلعی انتظامیہ چترال پرہو گی۔

Check Also

امیر ضلع لوئیر چترال مولانا جمشید احمد کی قیادت میں ل پر بجلی کے بلوں میں اضافے، بے جا ٹیکسس، مہنگائی اور چترال میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

چترال (نمائندہ ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی کال پر امیر ضلع …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *