98

طلباء پر تشدد کا نتیجہ ،پرنسپل گرفتار سکول سیل ،وحشیانہ تشدد کرنے کی پاداش میں اُن کے خلاف مقدمہ درج

چترال ( محکم الدین ایونی) طلباء پر تشدد کا نتیجہ ،پرنسپل گرفتار سکول سیل ۔ چترال کے مقام دروش میں ایک پرائیویٹ سکول کے پرنسپل کو اپنے شاگردوں پر وحشیانہ تشدد کرنے کی پاداش میں اُن کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا گیا ہے ۔ جبکہ سکول کو سیل کردیا گیا ہے۔ دی لارنر سکول کے پرنسپل انعام الکریم کے خلاف اُس وقت مقدمہ درج کیا گیا ۔ جب اُن کی طرف سے اپنے ہی سکول کے سٹوڈنٹس پر وحشیانہ تشدد کرتے ہوئے ایک ویڈیو کے ذریعے نشر کی گئی ۔ جس کا بالائی حکام نے فوری نوٹس لیا ، اور احکامات دینے پر دروش پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2010کے زیر دفعہ 33, ، 34 اور37کے تحت اُس کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے اُسے گرفتار کیا ۔ ویڈیو میں یہ دیکھایا گیا ہے ۔ کہ مذکورہ IMG_20160803_100029_resizedسکول کا پرنسپل انعام الکریم اپنے شاگردوں کو سکول کے صحن میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے ۔ اور بچے بچیاں چیخیں مارکر رو رہی ہیں ۔ جس کی خفیہ طور پر فلم بندی کی گئی تھی ۔درین اثنا ڈائریکٹر ایجوکیشن خیبر پختونخوا نے خبر پر فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈی ای او چترال حنیف اللہ اور پرنسپل سینٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال کو انکوائری ٹیم مقرر کیا ہے ، اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ تاکہ مزید کاروائی کی جا سکے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار پرنسپل ا انعام الکریم نے طلبہ کو سزا دینے کا اعتراف کیا ہے ۔ بدھ کے روز گرفتار پرنسپل کو سول جج دروش کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے پولیس نے جوڈیشل ریمانڈ کی استدعا کی ۔ لیکن عدالت کی طرف سے ریمانڈ کی اجازت نہ ملنے کے بعد پرنسپل کو جوڈیشل حوالات میں منتقل کیا گیا ہے ۔ واضح رہے ، کہ اس سے قبل بھی دروش کے ایک پرائیوئٹ سکول کے طالب علم پر اُستاد نے تشدد کیا تھا ، جس پر ٹیچر کے خلاف مقدمہ درج کیا جا رہا تھا ۔ کہ والدین کی طرف سے معاف کرنے پر اُستاد سزا سے بچ گیا تھا ۔ جبکہ چند سال قبل دو بچیاں اپنے ٹیچر کے رویے سے تنگ آکر دروش ہی میں دریائے چترال میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں