تازہ ترین

اپر چترال کی واحد ضلعی ہسپتال کی مجوزہ نجکاری کے خلاف آل پارٹیز کا اہم اجلاس، شدید تحفظات اور بھرپور مزاحمت کا فیصلہ

صحت کی سہولت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو معیاری اور سستی طبی سہولیات فراہم کرے تاکہ ہر فرد بلا امتیاز علاج حاصل کر سکے۔ یہ حق امیر و غریب، شہری و دیہاتی سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ضلع اپر چترال میں صحت کی سہولیات کے حوالے سے واحد کیٹگری ڈی ہسپتال بونی میں واقع ہے۔ اگرچہ یہ ہسپتال قابلِ تحسین سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے اور یہاں عملہ اور ضروری طبی سامان نہ ہونے کے برابر ہے، پھر بھی غریب عوام کی امیدیں اسی سے وابستہ ہیں۔لیکن انصاف کے دعوے دار صوبائی حکومت اس سہولت سے بھی اپر چترال کے عوام کو محروم کرنے کے لیے پسِ پردہ فیصلے کرتی دکھائی دے رہی ہے، اور خفیہ طور پر اسے نجی تحویل میں دینے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ جب یہ خبر عام ہوئی تو اپر چترال میں تشویش اور پریشانی کی فضا قائم ہو گئی۔ایسے میں آل پارٹیز کی جانب سے بونی میں ہنگامی طور پر ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت جمعیت علمائے اسلام اپر کے امیر مولانا محمد یوسف نے کی، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت مولانا فدا الرحمن نے حاصل کی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر کے سینئر نائب صدر پرویز لال نے تفصیلات بیان کرتے ہوئے ہسپتال کی مجوزہ نجکاری کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بونی ہسپتال کی نجکاری کا عمل جاری ہے اور اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو اپر چترال کے عوام ہمیشہ کے لیے صحت کی بنیادی سہولت سے محروم ہو سکتے ہیں، لہٰذا اس حوالے سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے قاضی غلام ربانی، پیر ممتاز، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین تحصیل کونسل مستوج سردار حکیم، چیئرمین ویلج کونسل بونی 1 مظہر الدین مظہر، سابق چیئرمین فضل الرحمن، سابق وی سی نائب ناظم کشافت یونس، سابق تحصیل ناظم شمس الرحمن لال، جمعیت علمائے اسلام اپر کے امیر مولانا محمد یوسف، جنرل سیکریٹری مولانا فدا الرحمن، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رکن افضل قباد، انفارمیشن سیکریٹری امجد علی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر کے سینئر نائب صدر پرویز لال، جنرل سیکریٹری پرنس سلطان الملک، تحصیل مستوج کے صدر جاوید لال، حاجی عارف اللہ، حاجی عبد الرب، پاکستان مسلم لیگ (ن) موڑکھؤ کے جنرل سیکریٹری محمد ایوب، جماعت اسلامی اپر چترال کے امیر اسد الرحمن، جنرل سیکریٹری اشفاق احمد، بازار کے نمائندے عبدالجبار اور دیگر سول سوسائٹی کے افراد نے بھرپور شرکت کی۔
اجلاس میں شرکاء نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متفقہ قرارداد کے ذریعے صوبائی حکومت، ڈپٹی اسپیکر اور ڈپٹی کمشنر اپر چترال کو متنبہ کیا کہ اگر اپر چترال کے واحد ضلعی ہسپتال کو نجی تحویل میں دینے کی کوشش کی گئی تو سخت عوامی ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔اجلاس میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی گئی کہ وہ اپنے انصاف کے بیانیے کے برخلاف عوام سے صحت کی بنیادی سہولت بھی چھین رہی ہے۔ ڈی ایچ او کی خاموشی اور عوام کو لاعلم رکھنے پر بھی کڑی تنقید کی گئی۔مزید کہا گیا کہ یہ ایک خفیہ سازش ہے جس کے تحت ہسپتال کو نجی تحویل میں دیا جا رہا ہے، اور متعلقہ حکام اس میں شریک دکھائی دیتے ہیں جبکہ عوام کو مکمل طور پر بے خبر رکھا گیا ہے۔
یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ڈپٹی اسپیکر صاحبہ اپر چترال کے واحد کیٹگری ڈی ہسپتال کو صوبے کے ترقی یافتہ ہسپتالوں کے برابر لانے کے لیے اقدامات کریں گی، لیکن افسوس کہ خاموشی سے اسے نجی تحویل میں دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔
آخر میں یہ اعلان کیا گیا کہ اگر 10 اپریل تک تسلی بخش جواب نہ ملا تو ضلعی سطح کے علاوہ تحصیل سطح پر بھی منظم انداز میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
صدرِ اجلاس مولانا محمد یوسف نے اپنے صدارتی خطاب میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار اپر چترال کو ڈپٹی اسپیکر شپ کا اہم عہدہ ملا ہے۔ ہمیں توقع تھی کہ اس سے علاقے میں خاطر خواہ ترقیاتی منصوبے پایۂ تکمیل تک پہنچیں گے، اسی لیے ہم نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کیا، لیکن حالات بہتر ہونے کے بجائے روز بروز بدتر ہوتے گئے۔ ایسے میں اپوزیشن کی خاموشی کو غلط رنگ دیا گیا، جو اب ناقابلِ قبول ہے۔ اب اپوزیشن بھرپور کردار ادا کرے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button