مضامین

قربانی: سنتِ ابراہیمی، مہنگائی اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں تحریر:…… بشیر حسین آزاد

اسلام میں قربانی ایک عظیم عبادت اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی لازوال سنت ہے، جسے ہر صاحبِ استطاعت مسلمان عید الاضحیٰ کے موقع پر ادا کرتا ہے۔ یہ عبادت صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات، مال اور نفس کو قربان کرنے کا درس دیتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
(سورۃ الکوثر: 2)
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:
“اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
(سورۃ الحج: 37)
قربانی کا اصل مقصد تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی قربانی کی بڑی فضیلت بیان فرمائی۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے:
“قربانی کے دن ابنِ آدم کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک خون بہانے (قربانی) سے زیادہ محبوب نہیں۔”
(ترمذی)
مگر افسوس کہ آج مہنگائی کے اس دور میں قربانی جیسی عظیم سنت متوسط اور غریب طبقے کے لیے مشکل ہوتی جارہی ہے۔ جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ ایک عام بچھڑا ایک لاکھ روپے سے تجاوز کرجاتا ہے جبکہ بکرے کی قیمت پچاس سے پینسٹھ ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بیل دو لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک فروخت ہورہے ہیں۔ ایسے حالات میں عام آدمی کے لیے قربانی کرنا ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
اس صورتحال کے کئی اسباب ہیں۔ ایک طرف ملک میں مجموعی مہنگائی ہے تو دوسری طرف بعض عناصر کی ناجائز منافع خوری بھی اس میں اضافہ کررہی ہے۔ ضلع کے مال مویشی کو خفیہ طور پر دوسرے اضلاع منتقل کرنا، مشترکہ قربانی کے نام پر بڑے پیمانے پر جانوروں کی خریداری، اور کم عمر یا کم وزن جانوروں کو زیادہ عمر اور وزنی ظاہر کرکے مہنگے داموں فروخت کرنا ایک عام مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ یہ صرف دھوکہ دہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک سنگین گناہ بھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔”
(صحیح مسلم)
لہٰذا جانور کی عمر، وزن یا صحت کے بارے میں جھوٹ بول کر لوگوں کو دھوکہ دینا کھلی بددیانتی ہے۔ اسلام تجارت میں دیانت، انصاف اور آسانی کا درس دیتا ہے۔ تاجروں کو چاہیے کہ وہ عید قربان کے موقع پر ناجائز منافع خوری کے بجائے اخلاص اور ہمدردی کا مظاہرہ کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمان اس سنتِ ابراہیمی کو ادا کرسکیں۔
ہر سال عید سے پہلے مختلف مقامات پر مویشی منڈیاں لگتی ہیں جہاں قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان منڈیوں کی نگرانی کرے، جانوروں کے وزن اور عمر کی جانچ کے لیے باقاعدہ نظام وضع کرے اور سرکاری “تھول” یا وزن کے طریقہ کار کو لازمی بنائے تاکہ عوام دھوکہ دہی سے محفوظ رہیں۔ اگر جانوروں کی قیمتوں اور معیار پر موثر نگرانی ہو تو عوام کو کافی ریلیف مل سکتا ہے۔
اسی طرح ضلع سے باہر مال مویشی کی غیرقانونی منتقلی بھی مقامی منڈیوں میں قلت اور مہنگائی کا سبب بنتی ہے۔ اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کرنا ایک مثبت اقدام ہے۔ ڈی پی او لوئر چترال رفعت اللہ خان کی خصوصی ہدایات پر چیک پوسٹوں میں نقل و حمل کی سخت نگرانی اور حالیہ دنوں میں مال مویشی کی سمگلنگ پکڑے جانے کے واقعات قابلِ تحسین ہیں۔ عوام نے ان اقدامات کو سراہا ہے اور مزید سخت نگرانی کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ مقامی لوگوں کو مناسب قیمت پر قربانی کے جانور میسر آسکیں۔
اسلام ہمیں اعتدال، انصاف اور اجتماعی بھلائی کا درس دیتا ہے۔ اگر تاجر دیانتداری اختیار کریں، انتظامیہ موثر نگرانی کرے اور عوام بھی ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی کریں تو قربانی جیسی عظیم عبادت ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کے لیے آسان ہوسکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قربانی کی روح کو سمجھیں۔ یہ صرف رسم نہیں بلکہ ایثار، اخلاص اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی محبوب چیز قربان کرنے کا عملی مظاہرہ ہے۔ اگر اس عبادت کے ساتھ دیانت، رحم دلی اور انصاف کو بھی شامل کرلیا جائے تو معاشرے میں برکت، محبت اور مساوات پیدا ہوگی، اور سنتِ ابراہیمی حقیقی معنوں میں زندہ ہوسکے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button