86

سبز پاسپورٹ صرف کاغذ نہیں۔۔۔سید شاہد عباس کاظمی

fff2
سبز پاسپورٹ صرف کاغذ کا ٹکڑا نہیں ۔ بلکہ ایک فخر ہے۔ اور آج مجھے فخر ہے کہ میرے پاس سبز پاسپورٹ ہے۔کیوں کہ میں ایسے ملک کا شہری ہوں جس کی بنیادوں میں اپنی عزتوں کی قربانیں دینے والے ایسے گمنام شہیدوں کا لہو بھی شامل ہے جنہوں نے موت کو مسکرا کر گلے لگایا ۔ مجھے آج اپنے ایک عزیز رانا صاحب کے لفظوں کی سمجھ آ رہی ہے جو ایک طویل عرصہ دیارِ عرب کے باسی رہے۔ وہ اکثر جب ہمیں بتاتے تھے کہ تقسیم کے اس وقت کا میں گواہ ہوں جب پردے لٹ رہے تھے۔ جب گردنیں کٹ رہی تھیں۔ جب سروں کے مینار قائم ہو رہے تھے۔ رانا صاحب اس وقت اپنے بزرگوں کے کندھوں پہ سوار نئے دیس میں پہنچے ۔ ایک جگہ پہنچے تو دشمن نے حملہ کر دیا۔ لاشوں کے درمیان گرتے پڑتے پاکستان پہنچے ۔ اسی لیے آج پاکستان کے خلاف بات سننے کو تیار نہیں۔ اور یہ بھی ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ وطن ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جن کی رگوں میں بے وفائی کا بیج تناور درخت بن چکا ہے۔ بلکہ یہ دیس ان لوگوں کی وراثت ہے جن کی رگوں میں شہیدوں کا لہو آج بھی زندگی بن کر دوڑ رہا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ عدنان سمیع خان صاحب کے بوجھ سے اس دھرتی کو نجات ملی کیوں کہ یہ دھرتی بہت سے کم عقلوں کو بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ایک بازو قلم کروا چکی ہے۔ قصور عدنان سمیع کا ہرگز نہیں وہ افغان و کشمیر کا ایسا امتزاج شخص تھا جو کبھی بھی پاکستانی نہیں بن سکا۔ ” سرگم ” کی تخلیق ہرگز ممکن نہ ہوتی اگر پاکستان نہ ہوتا۔ یہ جو آج لہک لہک کر سُر بکھیرے جا رہے ہیں یہ ہرگز ممکن نہ ہوتا اگر پاکستان کا سبز پاسپورٹ موصوف کے پاس نہ ہوتا۔ لیکن یہ دھرتی تو ایسے میر جعفر و صادق کا بوجھ اٹھاتی آئی ہے۔ اسی لیے تو اس دھرتی نے قیامت تک رہنا ہے کیوں کہ یہ اپنے سینے میں نگینوں کے ساتھ ایسے کھوٹے سکوں کو بھی سمو لیتی ہے جو اس کے قابل بھی نہیں ہوتے ۔
کچھ عرصہ پہلے ایک حقانی صاحب عقل کل سمجھے جاتے رہے اور پھر ایک وقت آیا کہ ان کے ہاتھ میں خنجر تھا اور وطن عزیز کی کمر تھی۔ جتنی اعلیٰ جگہ پر حقانی پہنچا اتنی اہم جگہ پر پہنچنا شاید کسی محب وطن پاکستان کے بس کی بات بھی نہیں۔ کیوں کہ حقانی جیسے غدار ہی شاید اعلیٰ ترین دستاویز تک پہنچنے کی سکت رکھتے ہیں۔ آج کیا کسی کی بھی توجہ اس جانب ہے کہ حقانی جیسا غدار کیسے وطن عزیز میں اہم ترین عہدے تک پہنچا؟ وہ دوران ملازمت کیسے پاکستان کا ملازم ہونے کے بجائے اپنے آقاؤں کو خوش کرتا رہا؟ وہ کن کن لوگوں سے ملا؟ وطن عزیز کو کس کس طرح سے نقصان پہنچایا؟ کون سی اہم دستاوایزت اس کی دسترس میں تھیں؟ وہ کہاں کہاں پہنچائیں گئی ہوں گی؟ اور ان سے وطن عزیز کی بنیادوں کو کس طرح آج تک کھوکھلا کیا جاتا رہا ہو گا۔
عدنان سمیع کو بھی ہم حقانی پارٹ ٹو کہیں تو شاید ہرگز بے جا نہیں ہو گا۔ محترم کو شاید اس بات کی خبر نہیں کہ غداری انہوں نے اس دیس کے ساتھ نہیں کی بلکہ شاید اپنی رگوں میں دوڑنے والے خون سے کی ہے کیوں کہ شاید وہ یہ بھول گئے کہ ان کے والد ارشد سمیع خان پاکستان کی فضائیہ کا اہم حصہ رہتے ہوئے اپنی بہادری کی بنیاد پر ستارہء جرات حاصل کر پائے۔ عدنان سمیع کو تو شاید اپنے والد سے آگے کسی کا نام تک یاد نہ ہو لیکن انہوں نے نہ صرف پاکستانی شہریت ترک کی ہے بلکہ اپنے دادا جنرل محفوظ جان اور اپنے دادا جنرل احمد جان کی وراثت سے بھی دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ عدنان سمیع خان کو شاید یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ان کے والد کو بہترین نوجوان جنگی ہوا باز کی ٹرافی پاکستان ائیر فورس کا حصہ رہتے ہوئے ملی نہ کہ بھارتی فضائیہ کی طرف سے۔ عدنان سمیع خان جس سبز پاسپورٹ کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں بنیادی طور پہ انہوں نے اپنے باپ کی توہین کی ہے کیوں کہ اسی سبز پاسپورٹ رکھنے والے ان کے والدصاحب کو کم و بیش سات میڈلز سے نوازا گیا۔ بزرگوں سے سنتے آئے تھے کہ جو کوئی کسی مشکل وقت میں آپ کی مدد کرتے اس کا احسان زندگی بھر نہیں بھولتے لیکن عدنان سمیع خان صاحب شاید احسانوں فراموشوں کی اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو احسان پہ بھی حق سمجھتی ہے۔ اسی لیے تو وہ یہ بھول بیٹھے کہ ان کے والد کو علاج کے لیے بیرون ملک اس وقت کی وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو نے بھجوایا تھا۔
عدنان سمیع خان کو صرف سبز پاسپورٹ نہیں بلکہ ان اکیس توپوں کی سلامی سے بھی دستبرداری کا اعلان کر دینا چاہیے جو ان کے والد کی وفات پہ ان کو ملی۔کیوں کہ جو شخص سبز پاسپورٹ کے قابل نہیں وہ کیسے ایک ایسے شخص کی وراثت سنبھال سکتا ہے جس کے بدن پر وردی رہی ہو۔ عدنان سمیع خان کے جانے سے اس دھرتی پہ کوئی حرف نہیں آئے گا کیوں کہ یہ دیس حقانی، عدنان، اور بہت سے ایسے دیگر لوگوں کو اپنے پاؤں پہ چلنا سکھا چکی ہے جو اسی کی جڑیں کھوکھلا کرنے کے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ عدنان سمیع نے تو شاید اس قوم کو ایک تحفہ دیا ہے۔ اس دھرتی سے ایک ایسا بوجھ ہٹا کر جو ایک بوجھ کی شکل میں اس پہ مسلط تھا۔
پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رہنے کے لیے کسی بھی مخصوص شخصیت کی محتاجی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو اتنی وسیع دھرتی ہے جو اپنے دشمنوں تک کو پالتی ہے۔ اور پھر ان کی زبان کے نشتر بھی سہتی ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آستینوں کے سانپ پہچانیں۔ ہم اپنے اندر موجود ایسے دشمنوں کو پہچانیں جو صرف کوٹ کا کالر پہ سبز ہلالی پرچم سجاتے ہیں لیکن دلوں میں دشمن سے وفاداری کے عہد نبھا رہے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کی شناخت بہت ضروری ہے۔ کیوں کہ حقانی کی طرح کے یہ لوگ ہی ہیں جو وطن کے راز دشمنوں کو پہنچانا فرض عین سمجھ لیتے ہیں۔ عدنان جیسے لوگوں کی منزل شاید پاک دھرتی ہو ہی نہیں سکتی جو سبز پاسپورٹ کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہوئے اپنے باپ کے مردہ وجود کو سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا بھی نہیں دیکھ پاتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں