71

کرپشن کا بادشاہ کب گرفت میں آئیگا۔۔۔۔۔حمزہ گلگتی

اللہ کے مقرب بندے فرماتے ہیں للہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے اور مظلوموں کی آہ عرش تک کو ہلا دیتی ہے۔ایک دن اس لاٹھی کا حرکت میں آجاناان لوگوں کا مقدر بن جاتا ہے جو اپنے ہی ذات اور خواہشات کا غلام بن کر غریبوں کا خون چوستے ہیں۔گزشتہ دور میں جب گلگت بلتستان ایکٹ نافذ ہوا تب گلگت کو برائے نام سا صوبے کا درجہ مل گیا اورلٹیروں کی چاندی ہوئی تھی۔گلی کوچوں کے وہ لوگ یکلخت بڑے پروٹوکول کے ساتھ رنگ برنگ گاڑیوں میں گھومنے لگے تھے۔یہ وہ وقت تھا جب میں ابھی ایم۔فل کا طالبعلم تھا۔اس ایکٹ کے نافذ ہونے پر اپنے علاقے سے دور ہم طلباء پھولے نہیں سما رہے تھے کہ ہمیں ایک نام اور ایک شناخت مل گئی،اور اختیارات کا مرکز و منبع تبدیل ہو کر مقامی باشندوں کو ملا۔ہماری بحث چلتی اور سب اس بات کی امید کرتے کہ لا محالہ اس سے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔حقیقت کچھ ہی عرصہ بعد منکشف ہوئی کہ یہاں تو صرف وہ لوگ نوازے گئے جو میڈیکل سٹور چلایا کرتے تھے۔وہ یکلخت پاکستان کے پرچم لگے دیوہیکل گاڑیوں میں گھومنے لگے انہیں عوام کی فکر رہی اور نہ ہی اپنی ذمہ داری کا احساس۔وہ اس اچانک ملے پروٹوکول اور اختیارات سے ایسے مدہوش ہوئے کہ اپنے حدوں کو بھی پار کرنے لگے۔انہی دنوں میرے سپروازر اچانک مجھ سے سوال کرنے لگے کہ کیا ملا عوام کو اس پیکج سے؟کس کو فائدہ ملا؟میرے منہ سے بے اختیار نکلا تھا وہ لوگ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے ہیں جن کو یہ عہدے ملے ہیں۔عوام کو پھوڑی کوڑی نہیں ملی۔مسکرا کر پوچھا تھا۔۔۔کیوں؟۔۔۔کیا وجہ ہے؟آپ تو بہت پر جوش تھے؟میں نے جواب دیا تھا۔۔۔جو لوگ پہلے چھوٹی گاڑیوں میں گھوم رہے تھے وہ اب بڑی گاڑیوں میں گھومنے لگے۔انہیں پروٹوکول ملا وہ مشیر سے وزیر بنے۔ایک کے بجائے آگے پیچھے کئی کئی سگاڑیاں گھومنے لگے۔چند ایک کی بجائے محافظوں کا فوج ظفر موج ان کی حفاظت پر مامور ہونے لگے ہیں۔سر نے محض سر ہی ہلانے پر اکتفا کیا اور اپنے کام میں جُت گئے۔
ہمارا تجربہ دن بدن تلخ ہوتا گیا۔وزارتِ تعلیم کے اعلیٰ عہدے پر براجماں یہ لٹیرا اس مقدس شعبے کے تقدس کو پامال کرنے پر تُلا ہوا تھا۔آئے روز کرپشن کی پِچ پر نِت نئے طریقے ایجاد کرکے کھیلنے کی خبریں آ رہیں تھیں۔یہ بد بخت اختیارات کے مستی میں مدہوش اس محکمے کی رہی سہی عزت کو بھی بھیج ڈالنے کی ٹھان لی تھی۔میں اپنے طالب علمی کے زمانے میں تعلیم کے محکمے کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ مل کر بھیجنے والے اس کرپٹ انسان کا کافی مداح تھا۔اس کے پیچھے ایک واقعہ تھا۔یہ شاید ان دنوں کی بات ہے جب میں اسکول کا طالب علم تھا ۔زندگی میں پہلی بار شندور فیسٹول میں اسے دیکھا تھا ۔تب میں جانتا تک نہیں تھا کہ یہ وہی ڈاکٹر ہے جس کے نام میں نے علاقے کے دیواروں میں خوبصورت خطاطی میں لکھا ہوا سکول آتے جاتے بارہا دیکھ رہا تھا۔شندور فیسٹول میں رات کے مشاعرے میں کچھ بد انتظامی ہوئی تھی اور یہ بندہ بپھرتے ہوئے اسٹیج پر نمودار ہوا تھا اور بڑے پُرجوش انداز میں اس نے انتظامیہ کو کوسا تھا۔میں نے اگلے دن بہتوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا تھا یہ ڈاکٹر علی مدد شیر ہے۔ بس وہ وقت تھا جب میرے دل میں اس کی قدر پیدا ہوئی تھی۔دنیا کا نرالا اصول ہے۔۔غیرت مند انسان بہت جلد عوام و خواص کے دلوں میں اپنے لئے جگہ پیدا کرتا ہے مگربعد کے تجربے سے معلوم ہوا کہ بزدل سیاستدان بھی اس گُر سے واقف ہیں اور وقت آنے پر وہ مصنوعی طور پر یہ پتہ بھی ضرور کھلیتے ہیں۔دوسری بار میری ملاقات تب ہوئی تھی جب یہ کرپشن کے دلدل میں پھنستا جا رہا تھا اور اُن کے محکمے کے مقدس پیشے کے ملازمتوں کی بولیاں لگنے کے بارے خبریں زبانِ زَد عام تھیں۔ہوشربا انکشافات ہورہے تھے۔لیکن میں نے اس سے اس بارے میں کچھ بھی استفسار نہیں کیا۔ہمارا مدعا ان کے پاس جانے کایہ تھا کہ او۔ٹی کے پوسٹوں میں پہلے سات نمبروں میں آنے اور رشوت نہ دینے کی وجہ سے یہ بدبخت اصل دستاویز غائب کرکے جعلی لسٹ سامنے لایا تھا جس میں یہ لوگ پیچھے تھے۔کچھ دباؤ کی وجہ سے یہ وعدوں سے ٹرخا رہا تھا مگر مٹھی گرم نہ کرنے کی وجہ سے یہ اپوئنمنٹ نہیں کرنے دے رہا تھا۔یوں وہ وعدہ یاد دلانے ہم سنگل ریسٹ ہاؤس ان سے ملنے گئے تھے وہاں بھی خواتین کی جھرمٹ میں مست بیٹھا یہ کرپٹ وزیر اپنی چرب زبانی سے وہی وعدہ دھرایا اور ادھر اُدھر کی باتیں کر کے ہمیں رخصت کر دیا۔ہمیں یقین کامل تھا کہ یہ شخص بولیاں لگا بیٹھا ہے جب تک اس کی مٹھی گرم نہیں کی جائے یہ لیٹر نہیں دے گا۔
واقفانِ حال کو پتہ ہے کہ اُس دور میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا۔لیکن سب سے زیادہ بدنام تعلیم کا مقدس شعبہ ہوا تھا۔بڑے بڑے نامورتعلیم یافتہ نوجوان (ایم۔فل اور ماسٹرز) انٹرویوز میں ریجکٹ ہوئے تھے اور میٹرک پاس یا بلکل آن پڑھ پیسے دے کر معمارانِ قوم کے مستقبل بنانے آگئے تھے۔کھلی بولیاں لگنے کے مصدقہ قصے عام تھے لیکن بد قسمتی دیکھئیے کہ ملکی باشندوں کے بھول جانے کا پرانا وطیرہ آج بھی پورے جوبن پر ہے۔اُن دنوں کا وہ لوٹنا ہی آج ہم نہیں بھولے ہیں بلکہ ان لوگوں کی طرف داری بھی کرنے لگے ہیں جنہوں نے اس علاقے کے اعلیٰ محکموں کو بھیج کرمال بنائے۔حیرت ہوتی ہے سیاست کے بھی کیسے کیسے چہرے ہوتے ہیں۔پیپلز پارٹی کے صدر امجد ایڈوکیٹ جیسا انسان آج پارٹی ڈسپلن سے مجبور ہوکر مہدی شاہ اور علی مدد شیر جیسے لوگوں کی برأت کا اظہار کر رہے ہیں۔ان کے ساتھ وہ قلم فروش بھی شامل ہیں جو انہیں بچانے کے لئے قلم کی حرمت پامال کر رہے ہیں۔ہمیں اتنا یقین ہے کہ کوئی کتنا بھی زور لگا دے مجرم کو بچا نہیں پائے گا۔کیونکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ اگر آج کے قلم فروش اور امجد ایڈوکیٹ جیسے لوگ کمر کس کے کرپٹ لوگوں کو بچانے میدان میں نکلے اور اس میں کامیاب ہو بھی جائے کسی حد تک تب بھی ہمیں یقین ہے کہ اُس بڑی عدالت میں ان کو کوئی نہیں بچا پائے گا۔
آج ہم اتنا کہتے ہیں کہ لوگوں کاانتظار بہت لمبا ہواتھا۔یقینِ کامل والے لوگ اس دن اور اس خبر کے انتظار میں تھے کہ کب اللہ کی لاٹھی حرکت میں آجائے۔جب ہاکر سے اخبار لینے گیا تو اس کی دھائی سے بھی یہ لگا جیسے وہ بھی اس دن کا پوری شدّت سے انتظار کر رہا ہو۔وہ بظاہر تو اخبار بھیجنے کے لئے یہ صدا لگا رہا تھا مگر اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ بڑی واضح تھی۔وہ گویا تھا کرپشن کرنے والا روپوش ۔میں نے وضاحت چاہی تو بولے یہ آج کی سب سے بڑی خبر ہے اور اسی کا ہمیں انتظار تھا۔
نوٹ: وزیرِ اعلیٰ اور وزراء سے گزارش ہے کہ جوٹیال دیامر کالونی میں گزشتہ دس دنو ں سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں آیا۔اگر تین دن میں ایک گھنٹہ پانی بھی دیا جائے تو عوام کا بھلا ہو۔ جس دن جوٹیال کے لئے پانی کے پروجیکٹ کے لئے فنڈ منظور ہونے کی خبر اخبارات میں لگی اُس سے اگلے ہی دن پانی بند ہوا۔پلیز توجہ دے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں