مضامین

اعتکاف: روح کی پاکیزگی اور بندگی کا عروج ​تحریر: بشیر حسین آزاد

​رمضان المبارک کے آخری دس دن مومن کے لیے تزکیہ نفس کا بہترین موقع ہوتے ہیں۔ اعتکاف کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان دنیاوی مشاغل، موبائل فون کی مصروفیت اور فضول گفتگو کو ترک کر کے خود کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کر دے۔ یہ عبادت محض ایک رسم نہیں بلکہ اللہ کے گھر میں ایک سوالی بن کر بیٹھنا ہے، اور سوالی تب تک نہیں اٹھتا جب تک اسے خیرات نہ مل جائے۔
​اعتکاف کی حقیقت اور سنتِ نبوی ﷺ
​اعتکاف سنتِ مؤکدہ کفایہ ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ ہر سال رمضان کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ: "نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے انہیں وفات دے دی۔” (بخاری و مسلم)۔ اعتکاف کا اصل مقصد لیلۃ القدر کی تلاش اور اللہ کے ساتھ خلوت (تنہائی) اختیار کرنا ہے تاکہ دل سے دنیا کی محبت نکل کر اللہ کی بڑائی جاگزیں ہو سکے۔
​موجودہ دور کی غفلت اور موبائل کا فتنہ
​آج کل مساجد میں اعتکاف کے دوران ایک تشویشناک صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ معتکفین گروہ بنا کر سیاست، کاروبار اور دنیاوی معاملات پر طویل گفتگو کرتے ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ "موبائل فون” بن چکا ہے۔ اگر ضرورت کے بغیر سوشل میڈیا، ویڈیوز اور چیٹنگ میں وقت ضائع کیا جائے، تو اعتکاف کی روح پامال ہو جاتی ہے۔ مسجد میں دنیاوی باتیں نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہیں جیسے آگ لکڑی کو۔ اعتکاف میں خاموشی اور ذکرِ الٰہی ہی بہترین رفیق ہیں۔
​وقت کی تقسیم اور اسلامی طریقہ
​اعتکاف کو اجر کا باعث بنانے کے لیے وقت کو درج ذیل امور میں تقسیم کرنا چاہیے:
​تلاوتِ قرآن: زیادہ سے زیادہ وقت قرآن پاک کو سمجھنے اور پڑھنے میں گزاریں۔
​نوافل و تسبیحات: صلاۃ التسبیح، تہجد اور استغفار کی کثرت کریں۔
​دعا و گریہ زاری: اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور امتِ مسلمہ کے لیے رقت آمیز دعائیں کریں۔
​علمِ دین کی طلب: سیرتِ طیبہ یا احکامِ دین کا مطالعہ کر کے اپنی زندگی کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔
​اعتکاف کے روحانی و تربیتی ثمرات
​اعتکاف ایک "روحانی ورکشاپ” ہے جس کے اثرات پورے سال کی زندگی پر پڑنے چاہئیں۔ یہ بندے میں ضبطِ نفس پیدا کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی خاطر حلال اشیاء کو چھوڑ دیتا ہے، تو اس میں حرام سے بچنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ یہ خلوت انسان کو مادی وجود سے نکال کر روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز کر دیتی ہے اور اسے وہ قلبی سکون میسر آتا ہے جو دنیا کی کسی آسائش میں نہیں۔
​وقت کا ضیاع: محرومی یا گناہ؟
​یاد رکھیں، اعتکاف نام ہی "روک لینے” کا ہے۔ جب تک انسان اپنے ذہن سے دنیا کے سودے، موبائل کے نوٹیفیکیشنز اور گھر کی فکر کو نہیں نکالے گا، اسے وہ سکون نہیں مل سکتا۔ مسجد کی حرمت کا لحاظ رکھنا واجب ہے۔ دورانِ اعتکاف لایعنی بحث، غیبت یا سوشل میڈیا پر ریاکاری (عبادات کی تشہیر) ثواب کو ختم کر کے الٹا گناہوں کا بوجھ بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ اگر ہم مسجد میں بیٹھ کر بھی دنیا میں مگن رہے، تو یہ عبادت نہیں بلکہ محض جگہ کی تبدیلی ہوگی۔

اعتکاف کا وقت اللہ کی امانت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک عمل کو مسنون طریقے سے ادا کرنے اور اسے اپنی بارگاہ میں قبول فرمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button