وادی کالاش رومبور میں شجرکاری مہم کا آغاز، پودوں کی تقسیم، ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ۔

رومبور ( فتح اللہ) چترال کے وادی کالاش رومبور میں محکمہ جنگلات لوئر چترال کے زیر اہتمام شجرکاری مہم اور پودوں کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد علاقے میں شجرکاری کو فروغ دینا، جنگلات کا تحفظ یقینی بنانا اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ اس مہم کا آغاز ڈی ایف او چترال لوئر آصف علی شاہ کی قیادت میں کیا گیا، جبکہ اسسٹنٹ ایس ڈی ایف او قاسم علی شاہ، بلاک آفیسرز اور فارسٹ گارڈز نے نگرانی کے فرائض سرانجام دیے۔
تقریب کا افتتاح علاقے کے عمائدین نے پودے لگا کر کیا۔ اس موقع پر سیاسی و سماجی شخصیت اور سابق چیئرمین سیف اللہ جان کالاش، چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان، سماجی رہنما غلام سرور قریشی، سابق کونسلر عنایت اللہ شیخ قریشی، حکیم خان، چترال لیویز فورس رومبور چیک پوسٹ اور تھانہ رومبور کے اہلکاروں سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا نہ صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف اور صحت مند ماحول کی ضمانت بھی ہے۔ چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان نے محکمہ جنگلات لوئر چترال کے حکام کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دور افتادہ علاقے میں آکر پودوں کی تقسیم ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وادی رومبور کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کا سامنا ہے، اور ان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے شجرکاری نہایت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر عوام، بالخصوص نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اپنے علاقے کو سرسبز و شاداب بنانے میں کردار ادا کریں۔
تقریب کے دوران مختلف اقسام کے جنگلی اور پھلدار پودے مقامی افراد میں تقسیم کیے گئے تاکہ وہ انہیں اپنے گھروں، کھیتوں اور اطراف میں لگا کر نہ صرف قدرتی حسن میں اضافہ کریں بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی حصہ ڈالیں۔ شرکاء نے محکمہ جنگلات لوئر چترال کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی شجرکاری مہمات ماحولیاتی آلودگی میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور قدرتی آفات کے خطرات سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں، جو کہ موجودہ دور کا ایک اہم تقاضا بن چکا ہے۔





