104

ثقافت کے زندہ امیں” اقربا پروری کی بھینٹ چڑھ گیا، نظرانداز ہونے والے فنکاروں کا احتجاج

پشاور(نامہ نگار)صوبائی حکومت کی جانب سے فنکاروں میں ثقافت کے زندہ امین پروگرام کے تحت اعزازیہ تقسیم میں نظرانداز ہونے والے فنکاروں نے احتجاجی مظاہرہ کیااورمطالبہ کیا کہ انہیں ان کا حق دیکر انصاف فراہم کیا جائے ۔پشاور پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے فنکاروں سعیدہ خا ن، جمال الدین ، آمنہ بی بی اور عبد الرحمن ،حبیب خان، ارشادخان،سدریٰ یوسفزئی ودیگر کا کہنا تھا کہ جن فنکاروں اور آرٹسٹ میں اعزازی چیک تقسیم کئے گئے وہ ایک خاص گروپ کے چہیتے ہیں جنہوں نے پشتو ثقافت کے فروغ کیلئے کچھ نہیں کیا انہوں نے کہاکہ کمیٹی ممبران میں لاہور کے رہائشی بھی ہے جنہیں پشاور کے فنکاروں کا کیا پتہ ۔انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ہر موقع پر زیادتی کی گئی پشاورمیں امن کے نام حالیہ منعقدہ ہنر میلہ میں پنجاب سے حمیراارشد، رابی پیرزادہ ودیگرکو موقع دے کر لاکھوں روپے معاوضہ دیا گیا یہاں تک کہ ڈی جے سسٹم بھی پنجاب سے منگوائے گئے ،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بطور حوصلہ افزئی یہاں کے فنکاروں کو موقع دیا جاتا اور انہیں معاوضہ دیا جاتالیکن انہیں مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیااس طرح اعزازیہ تقسیم کرنے میں بھی انہیں نظرانداز کردیاگیا۔اتوار کو مردان کی ادیب، شعرا، اداکاروں اور دیگر ہنر مند برادری نے ثقافت کے امیں پروگرام میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کا پھانڈہ پوٹتے ہوئے احتجاج کیا اور اس پروگرام کے تحت ہونے والی سلیکشن کے طریقہ کار کو چیلنج کرتے ہوئے اعلٰی حکام سے اس کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا ہے۔اس حوالے سے محکمہ ثقافت خیبرپختونخوا کے ترجمان زہرا عالم نے بتایا کہ مستحق فنکاروں کے چناؤ کیلئے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں اور ایک طریقہ کار کے تحت لسٹ مرتب کی گئی ہے تاہم جو مستحق فنکار لسٹ میں شامل نہیں ان کے نام بھی شامل کئے جائیں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں