صوبائی حکومت کی جانب سے اسٹامپ پیپر کے اجراء کے نظام میں تبدیلی کے بعد ضلع چترال میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

چترال( عبد الغفار سے)صوبائی حکومت کی جانب سے اسٹامپ پیپر کے اجراء کے نظام میں تبدیلی کے بعد ضلع چترال میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پرانے طریقہ کار کے تحت جہاں رجسٹرڈ اسٹامپ وینڈرز کے ذریعے باآسانی اسٹامپ پیپر دستیاب ہوتے تھے، وہیں اب بینک کے ذریعے اس کے حصول نے شہریوں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔
گزشتہ سال حکومت نے اسٹامپ پیپر کے اجراء کا اختیار Bank of Khyber کو منتقل کیا، تاہم ضلع چترال لوئر میں اس بینک کی صرف ایک ہی برانچ موجود ہے، جس کے باعث تمام شہریوں کو ایک ہی مقام پر رجوع کرنا پڑتا ہے۔
دور دراز علاقوں جیسے ارندو اور گرم چشمہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسٹامپ پیپر کے حصول کے لیے کئی گھنٹوں پر مشتمل طویل سفر کرکے چترال آنا پڑتا ہے۔ شہریوں کے مطابق یہ سفر بعض اوقات سات گھنٹے تک محیط ہوتا ہے، جس کے بعد انہیں بینک میں لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
صورتحال اس وقت مزید گھمبیر ہو گئی جب بینک کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت برانچ میں اسٹامپ پیپر سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق “ہم نے 12 فروری کو اسٹامپ پیپر کی ڈیمانڈ بھیجی تھی، لیکن ابھی تک ہمیں فراہم نہیں کیے گئے۔”
شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک معمولی 250 روپے کے اسٹامپ پیپر کے حصول کے لیے انہیں دو دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے، جبکہ سفری اخراجات، رہائش اور دیگر ضروریات پر 12 ہزار سے 25 ہزار روپے تک خرچ آ جاتا ہے۔ اس صورتحال نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیا جائے، اسٹامپ پیپر کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور یا تو پرانا نظام بحال کیا جائے یا نئے نظام کو اس انداز میں بہتر بنایا جائے کہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو سہولت میسر آ سکے



