تازہ ترین
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے چترال میں سڑکوں کی خستہ حالی سے متعلق اہم کیس کی سماعت

آج چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے چترال میں سڑکوں کی خستہ حالی سے متعلق اہم کیس کی سماعت کی، جس میں مختلف منصوبوں پر پیشرفت اور فنڈز کی صورتحال عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔
تورکہو روڈ کے حوالے سے چیف انجینئر سی اینڈ ڈبلیو عدالت میں پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ اپریل کے پہلے ہفتے میں کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا اور جون 2026 تک منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے سال 2025 میں اس منصوبے کے لیے 50 کروڑ روپے جاری کرنے تھے، تاہم صرف 70 لاکھ روپے جاری کیے گئے، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ مزید یہ کہ صوبائی حکومت نے عدالت کے حکم پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو 50 لاکھ روپے بطور بریج فنانسنگ (قرض) فراہم کیے ہیں، جس کی بنیاد پر ابتدائی کام جاری ہے۔
چترال-شندور روڈ کے لیے وفاقی حکومت کو 600 ملین روپے جاری کرنا ہیں، جو تاحال فراہم نہیں کیے گئے۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ زمین کے معاوضے کی ادائیگی ہو چکی ہے اور فنڈز کے اجراء کے ساتھ ہی کام شروع کر دیا جائے گا۔
کالاش ویلی روڈ (پیکج ٹو) کے معاملے میں عدالت نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ متاثرہ زمینوں کے معاوضے فوری طور پر ادا کیے جائیں۔
گرم چشمہ-دورہ پاس روڈ کے حوالے سے بتایا گیا کہ موجودہ حالات میں اس منصوبے کے لیے کوئی فنڈز دستیاب نہیں، لہٰذا اس کی تعمیر مستقبل قریب میں ممکن نہیں۔
برنس پل کی انتہائی خراب حالت بھی عدالت کے سامنے لائی گئی، جہاں انکشاف ہوا کہ ٹوٹے ہوئے گرِل کو پرانے کپڑوں اور پلاسٹک کی بوریوں سے ڈھانپ کر مٹی ڈال دی جاتی ہے، جس سے کسی بھی وقت بڑا حادثہ پیش آنے کا خدشہ ہے۔ عدالت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو فوری اور تسلی بخش مرمت کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
مستوج-بروغل روڈ کے کیس میں، جو شکیل دورانی ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کیا گیا،
چیف انجینئر خیبرپختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کے اجراء کے بعد ہی تعمیراتی کام شروع کیا جا سکتا ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ 20 ملین روپے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر ابھی تک فنڈز جاری نہیں ہوئے۔ اس پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو ہدایت دی کہ چیف سیکریٹری سے رابطہ کر کے فوری فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
بعد ازاں، کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔



