تازہ ترین

چترال میں (AKAHP) نے آغاخان فاؤنڈیشن اور گلوبل افیرز کینیڈا کی مالی معاونت سے اپر اور لوئر چترال میں RENEW کے نام سے ایک اہم پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح

چترال (نامہ نگار) حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر آغاخان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ پاکستان (AKAHP) نے آغاخان فاؤنڈیشن اور گلوبل افیرز کینیڈا کی مالی معاونت سے اپر اور لوئر چترال میں RENEW کے نام سے ایک اہم پراجیکٹ کا باقاعدہ افتتاح چترال کے مقامی ہوٹل میں کیا۔ اس پراجیکٹ کا مقصد سکول اور کمیونیٹی کی سطح پر مربوط ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے ذریعے آفات سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔افتتاحی تقریب میں ضلعی انتظامیہ، لائن ڈیپارٹمنٹس، اے کے ڈی این کے ذیلی اداروں، آغاخان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کی مینجمنٹ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
اس موقع پر ریجنل پروگرام اپریشنس منیجر فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس چترال ولی محمد خان، ممبر بورڈ آف ڈائریکٹر اکاہ محمد افضل، ٹریننگ کوآرڈینیٹر فدا حسین، اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کئی انٹرنیشنل معاہدوں کا ممبر ہے اور اسی وجہ سے تمام ادارے بشمول سرکاری و غیر سرکاری ان معاہدوں کو تکمیل دینے میں سرکار کے ساتھ معاونت کر رہے ہیں۔ چترال قدرتی خطرات جیسے سیلاب، گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (GLOFs)، لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودوں کے خطرات سے دوچار ہے، جو لوگوں کے معاش، بنیادی ڈھانچے، پانی کی فراہمی اور تعلیمی اداروں کو شدید متاثر کرتے ہیں، جبکہ موسمیاتی تغیرات ان خطرات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
مقررین نے بتایا کہ اس پراجیکٹ کے تحت اسکول سیفٹی، اسکول بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ، اسکول عمارتوں کی گرین ریٹروفٹنگ، کمیونیٹی بیسڈ ڈی آر آر اور دیگر اہم شعبوں پر کام کیا جائے گا۔ پراجیکٹ کے تحت اپر اور لوئر چترال کے 17 دیہات، 9 سرکاری اسکولوں، 16 ڈی ڈبلیو ایس ایس، 17 اسٹاک پائل قائم کیے جائیں گے، 3 ڈیزاسٹر اسسمنٹ اینڈ رسپانس ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی، میڈیا پرسنز کو GESI-DRR رپورٹنگ کی تربیت دی جائے گی، جبکہ 9 ہیلتھ اینڈ ہائجین سیشنز کا انعقاد اور کٹس کی تقسیم بھی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری محکموں اور کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جائے گا، خواتین اور کمزور طبقات کی ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ میں شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا اور تمام لائن ڈیپارٹمنٹس اور کمیونٹی کے ساتھ مل کر مؤثر انداز میں کام کیا جائے گا۔
اس موقع پر ڈی جی کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی فدا الکریم، یونیورسٹی آف چترال کے پروفیسر ڈاکٹر حافظ اللہ، ایس ڈی او ایجوکیشن سیرت اللہ اور دیگر مقررین نے کہا کہ اے کے ڈی این کے ادارے اور اس سے وابستہ رضاکار تنظیمیں دہائیوں سے قدرتی آفات کے دوران چترال کے طول و عرض میں ریسکیو، ریلیف، طبی امداد اور راشن کی فراہمی میں پیش پیش رہی ہیں، جو قابل ستائش خدمات ہیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ، کالاش ویلیز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر اداروں کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
تقریب میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لوئر چترال ضیاء الرحمن، ڈی ایف او وائلڈ لائف فاروق نبی، ڈاکٹر سلیم سیف اللہ ڈی ایچ او ، انعام اللہ اےڈی ای او ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، سلیم الدین مسلم ہینڈ، خضر حیات سوشل ولفیئر، حمید الاعظم اے کے ار ایس پی، اویس احمد ایس آی ایف،انچارچ محکمہ موسمیات لوئرچترال احتشام الحق ،جاوید احمد فوکس، حماد الدین پی ڈی سی، جمعہ خان ریجنل کونسل اور دیگر خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ تقریب کا اختتام اس عہد کے ساتھ کیا گیا کہ سارے ادارے ملکر چترال کو محفوظ اور مستحکم بنانے میں ملکر کام کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button