40

چترال میں نیشنل ہیلتھ پرگرام کے 514ملازمین نے حکومت کو خبردار کیا ہے ۔کہ اُن کے واجبات اگر فوری طور پر ادا نہیں کئے گئے ۔ تو وہ این آئی ڈی پروگرام کا بائیکاٹ کریں گے

چترال ( محکم الدین محکم) چترال میں نیشنل ہیلتھ پرگرام کے 514ملازمین نے حکومت کو خبردار کیا ہے ۔کہ اُن کے واجبات اگر فوری طور پر ادا نہیں کئے گئے ۔ تو وہ این آئی ڈی پروگرام کا بائیکاٹ کریں گے ۔ آل سپروائزرز ، لیڈی ہیلتھ ورکرز نیشنل ہیلتھ پروگرام چترال نے کہا ہے ۔ کہ این آئی ڈی پروگرام میں اُن کی انتھک کوششوں کی و جہ سے گذشتہ کئی سالوں سے چترال پولیو فری ضلع کا اعزاز برقرار رکھا ہوا ہے ۔ اور اس لئے ممکن ہوا ہے ۔کہ انہوں نے سردی ،گرمی اور دشوار گذار راستوں کی صعوبتیں برداشت کرکے قوم کے بچوں اور ماؤں کو صحت کی سہولیات باہم پہنچائیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ حکومت انہیں انعامات سے نوازنے کی بجائے اُن کی قانونی تنخواہیں ادا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں نیشنل ہیلتھ کے ملازمین شدید سیلاب کی وجہ سے قابل رحم حالت میں ہیں ۔ اور وہ بیرونی امدادی اداروں کے رحم و کرم پر اپنے چولہے جلا رہے ہیں ۔ جو کہ حکو مت کیلئے باعث شرم ہے ۔ یہ ایسا موقع ہے ۔ کہ حکومت کو نیشنل ہیلتھ پروگرام چترال کے ملازمین کی تنخواہیں معہ سابقہ واجبات گھر کی دہلیز پر انہیں پہنچانی چاہیءں ۔ لیکن لمحہ فکریہ ہے ۔ کہ خواتین ملازمین کو احتجاج پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔کہ 2012میں نیشنل ہیلتھ پروگرام کے ملازمین کو باقاعدہ ملازمین تسلیم کرکے نوٹیفیکیشن جاری کرنے کے بعد ابھی تک تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ موجودہ وقت میں تنخواہوں کی آدائیگی بھی باقاعدگی سے نہیں کی جاتی ۔ اس لئے تمام ملازمین انتہائی ذہنی کوفت اور پریشانی کا شکار ہیں ۔ انہوں نے خبردار کیا ۔ کہ واجبات اور تنخواہیں ادا نہ کرنے کی صورت میں وہ این آئی ڈی پروگرام کا بائیکاٹ کریں گے ۔ جس کے نتیجے میں اگر چترال کے پولیو فری ضلع ہونے کا اعزاز متاثر ہوا ۔ تو اُس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہو گی ۔ آل سپروائزرز ، لیڈی ہیلتھ ورکرز نے چترال بھر میں شدید احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ درین اثنا چترال کے ایم پی اے سید سردار حسین اور دیگر قائدین نے گذشتہ دن ایک پریس کانفرنس میں اس تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ کہ چترال میں سیلاب کی وجہ سے این آئی ڈی پروگرام کی انجام دہی میں تاخیر سے چترال میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آ سکتے ہیں ۔ اور چترال کیلئے یہ انتہائی نقصاندہ اور خطرناک ہو سکتی ہے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں