51

شہر اقتدارکے انتخابا ت مگر ہواکیا ۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ وطن عزیز میں بلدیاتی انتخابات کی کہانی کوئی نئی نہیں کیونکہ مؤثراورغیرمؤثرہونایاتواترکے ساتھ نہ ہوناالگ بات ہے تاہم ماضی میں مختلف ادوارمیں یہ عمل ملک کے طول وعرض میں ہوتارہاہے البتہ شہراقتداراسلام آبادمیں اس سے قبل بلدیاتی الیکشن ہوتانظرنہیں آیاتھا۔ 30 نومبر کو شہراقتداراسلام آباد میں تاریخ کے پہلے ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نوازاورتبدیلی کی علمبردار تحریک انصاف کے مابین کانٹے کامقابلہ ہواجس کی توقع بھی جارہی تھی ۔مذکورہ الیکشن سے متعلق موصولہ نتائج کے مطابق پنجاب کی طرح یہاں بھی مسلم لیگ نون مجموعی طورپر21نشستیں حاصل کرکے بازی لے گئی ہے جبکہ کپتان کی جماعت کے حصے میں15نشستیں آئی ہیں۔دوسری جانب آزاد حیثیت سے انتخابی دنگل میں شامل امیدواروں نے یہاں بھی 14نشستیں اپنے نام کرکے نہ صرف حیراں کن نتائج دیئے بلکہ شہراقتدارکی میئرشپ کے لئے سرگرم مسلم لیگ نوازاورپی ٹی آئی کومشکلات سے بھی دوچارکردیاہے کیونکہ اب دوسرا مرحلہ میئرشپ کاہوگااور اسلام آباد کی میئرشپ کس جماعت کوملے گی یہ فیصلہ اب آزادحیثیت میں الیکشن جیتنے والے ہی کریں گے۔اگرچہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے عام اور ضمنی الیکشن میں بھی آزاد امیدوارمیدان مارنے میں کامیاب ہوتے رہے ہیں تاہم ذکرہوبلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں پر عوام کے اعتماد کرنے کاتو پہلے بلوچستان اورخیبرپختونخوا،پھرپنجاب اور سندھ جبکہ اب شہراقتدارکے بلدیاتی الیکشن میں آزاد امیدواروں کی اونچی اڑان کودیکھتے ہوئے مجھے پچھلے ماہ الیکشن کمیشن کے ایک ذمہ دارعہدیدارکایہ کہنایادآتاہے کہ سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کاکیامطلب جب جیتناآزادامیدواروں نے ہوتاہے۔بہرحال جوہوناتھاوہ تو ہوگیا۔شہراقتداراسلام آبادکے رہائشیوں کے لئے باعث خوشی اور اطمینان بات یہ رہی کہ دیرآئد درست آئدکے مصداق یہاں وطن عزیزکے پہلے بلدیاتی انتخابات کاعمل نظر توآیا۔ مذکورہ الیکشن کے نتائج پر نظر ڈالی جائے تو یہ کہاجاسکتاہے کہ نون لیگ نے زیادہ نشستیں لے کر بھی وہ کامیابی حاصل نہیں کی جوایک حکمراں جماعت کی ڈھائی اور تین سالہ مدت کے بعد ہونی چاہئے اوراس کامطلب یہ بھی لیاجاسکتاہے کہ نون لیگ اپنے اب تک کی حکومتی مدت میں اسلام آباد کے عوام کااعتماد جیتنے میں ناکام رہی ہے۔اگرچہ نون لیگ کوواضح کامیابی نہ ملنے میں ٹکٹوں کی تقسیم جیسے غلط سیاسی فیصلوں کابھی عمل دخل ہوسکتاہے جس کااعتراف وزیراعظم نوازشریف بھی کرچکے ہیں کچھ اندرونی اختلافات بھی ہوسکتے ہیں جن کاانتخابی مہم کے دوران پی ٹی آئی کے رہنماء اسد عمر باربارذکرکرتے سنائی دیتے تھے کہ نون لیگ کوشکست اس لئے ہوگی کہ دھڑوں میں تقسیم ہے تاہم غیرمعمولی کامیابی نہ دکھانے کے باوجود اس لحاظ سے دیکھاجائے کہ نون لیگ زیادہ تر ان علاقوں سے کامیاب رہی ہے جہاں پچھلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرچکی تھی تویہ کہاجاسکتاہے کہ نون لیگ نے اچھے نتائج دیئے ہیں ۔دوسری جانب ذکر ہوتبدیلی کی علمبردار تحریک انصاف کی کارکردگی کاتواگرچہ 15نشستیں حاصل کرنابھی کوئی معمولی بات نہیں تاہم جس طرح انتخابی دھاندلی کا واویلا کرکے پی ٹی آئی عوامی قوت کے حامل ہونے کادعویٰ کرہی تھی اورجس اندازمیں اس نے بلدیاتی انتخابات کی مہم چلائی تھی اسے سامنے رکھتے ہوئے یہ کہناشائد غلط نہ ہوکہ پی ٹی آئی بھی وہ کامیابی لینے میں ناکام رہی جس کی وہ توقع کررہی تھی اور جس کی اس سے توقع کی جارہی تھی جبکہ یہاں قابل ذکر امریہ بھی ہے کہ شہراقتدار کے ان علاقوں میں بھی پی ٹی آئی کومزاحمت اور انتخابی شکست کاسامناکرناپڑاجہاں اسے عام انتخابات میں مخدوم جاوید ہاشمی اور بعد میں اسد عمرکی صورت میں کامیابی ملی تھی۔کون ہارااور جیت کس کامقدر بنی یہ تواب قصہ پارینہ بن گیاہے اور اب مرحلہ باقی ہے میئر شپ کاجس کے لئے دونوں جماعتوں کی سرتوڑکوششیں جاری ہیں ۔میئرکے انتخاب کے لئے بلاشبہ آزادحیثیت سے میدان مارنے والوں کے ووٹ کی بڑی اہمیت ہے اور دونوں جماعتوں کی بھرپور کوشش ہوگی انہیں ساتھ ملانے کی۔ اگرچہ یہ اندازہ لگایاجا سکتاہے کہ نون لیگ میئرشپ کامرحلہ جیتنے میں کامیاب ہوگی کیونکہ ماضی کے انتخابی تاریخ کی روشنی میں یہ کہناشائد درست ہوکہ آزاد حیثیت میں الیکشن جیتنے والوں کاجھکاؤزیادہ تر اکثریتی نشستیں لینے والی جماعت یاحکومت وقت کی جانب ہوتاہے تاہم اس حوالے سے حتمی طورپر کچھ نہیں کہاجاسکتاکیونکہ ایک جانب اگر حکمراں جماعت کی طاقت سے انکارنہیں تودوسری جانب اسلام آبادمیں تبدیلی کی علمبردارپی ٹی آئی کی کے وجود اور سیاسی کردارکوبھی کسی صور ت نظراندازنہیں کیاجاسکتا۔اونٹ کس کروٹ بیٹھے گاکون ہوگاکس کے ساتھ اور میئرشپ کامرحلہ جیتنے میں کون سی جماعت سرخروہوگی اس کے لئے کچھ دن انتظارکرناپڑے گاالبتہ نون لیگ کوپی ٹی آئی سے زیادہ کامیابی کیوں ملی یانون لیگ وہ کامیابی لینے میں ناکام کیوں رہی جس کی وہ توقع کررہی تھی ،کیوں آزاد امیدواراور پی ٹی آئی اس کے امیدواروں کے مقابلے میں سرخرور ہی ۔یقینی طورپریہ سوچناہوگانون لیگ کی قیادت کو۔جبکہ پی ٹی آئی کیوں دعووں اور توقعات کے مطابق نتائج دینے میں ناکام رہی یہ بات پی ٹی آئی کی قیادت کوسرجوڑکرسوچناہوگی۔اسلام آباد کے رہائشیوں کی مفاد میں توبس یہی ہوگاکہ مقامی حکومت جس جماعت کی بھی بنے وہ ان کے مفاداور ترقی کے لئے کام کریں۔مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی جیسی جماعتوں میں جوبھی مقامی حکمرانی کاتاج سرپررکھنے میں کامیاب ہوگی اسے ذہن میں رکھناہوگاکہ مستقبل میں شہراقتدارکے اندر انتخابی کامیابی کے حصول کادارومدار تشکیل پانے والی مقامی حکومت کی کارکردگی پرہوگاکیونکہ اسلام آبادمیں زیادہ تر پڑھالکھاطبقہ رہائش پذیرہے جسے عملی کردارسے تومتاثر کیاجاسکتاہے مگرمحض وعدوں سے ٹرخایااور دعوں سے ورغلایانہیں جاسکتا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں