ماضی کے برعکس اس سال عید الفطر کے موقع پر چترال شہر اور اس کی عالمی شہرت یافتہ سیاحتی وادیوں میں سیاحوں کی آمد انتہائی کم رہی

چترال (نمائندہ )ماضی کے برعکس اس سال عید الفطر کے موقع پر چترال شہر اور اس کی عالمی شہرت یافتہ سیاحتی وادیوں میں سیاحوں کی آمد انتہائی کم رہی، جس کے باعث مقامی سیاحت سے وابستہ افراد شدید مایوسی کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، عید کی تعطیلات کے دوران چترال شہر سمیت وادی کالاش اور گرم چشمہ کے سیاحتی مقامات پر وہ گہما گہمی نظر نہیں آئی جو روایتی طور پر عید کے ایام میں دیکھی جاتی تھی۔ چترال کی سڑکیں جو کبھی سیاحوں کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے شور سے گونجتی تھیں، اس بار خالی اور ویران دکھائی دیں۔
مقامی ہوٹل مالکان نے پریس کلب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہوٹلوں میں کمروں کی بکنگ نہ ہونے کے برابر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ عید کے سیزن میں جہاں ہوٹل پہلے سے ہی بھر جاتے تھے، وہاں اس بار اکا دکا سیاح ہی نظر آئے۔ ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد کے مطابق، ان کے کاروبار کو اس بار بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سیاحوں کی عدم دلچسپی کی بڑی وجوہات میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ اور بے روزگاری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشی تنگدستی کی وجہ سے متوسط طبقہ اب تفریحی سفر کی سکت نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ چترال میں بنیادی سہولیات کا فقدان اور سڑکوں کی ابتر حالت بھی سیاحوں کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چترال کو ایک مکمل اور کامیاب سیاحتی مرکز بنانے کے لیے حکومت کو یہاں انفراسٹرکچر کی بہتری اور سیاحوں کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی پر فوری توجہ دینی ہوگی، ورنہ خطے کی معیشت کا یہ اہم ستون مکمل طور پر زمین بوس ہو سکتا ہے



