تعلیمی نفسیات اور سکولوں کے طویل اوقات کار،زمینی حقائق کو نظر انداز نہ کیا جائے،عوامی حلقے

چترال (نامہ نگار) چترال کے عوامی حلقوں کاکہنا ہے کہ تعلیمی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر موجودہ دور میں سکولوں کے لیے بنائے گئے ٹائم ٹیبل پر غور کیا جائے تو یہ ایک عجیب اور غیر حقیقت پسندانہ فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے تقریباً 75 فیصد طلبہ و طالبات پیدل سکول آتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بچے صبح سکول پہنچنے کے لیے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے گھروں سے نکلتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ناشتے کے بغیر سکول جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔
ایسے بچوں کی جسمانی اور ذہنی حالت کو سمجھے بغیر ان پر طویل اوقات کار مسلط کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔ تعلیمی نفسیات واضح طور پر یہ کہتی ہے کہ جب تک بچے کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہوں، وہ سیکھنے کے عمل میں بھرپور حصہ نہیں لے سکتا۔ بھوکا، تھکا ہوا اور ذہنی دباؤ کا شکار بچہ نہ تو توجہ دے سکتا ہے اور نہ ہی مؤثر انداز میں علم حاصل کر سکتا ہے۔
مزید برآں سکولوں میں ٹک شاپ پر پابندی لگا دی گئی ہے اور سکولوں کے قریب ریڑھی یا چھابڑی فروشوں کو بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر طلبہ و طالبات کے والدین غریب ہیں اور ان کے گھروں میں دو وقت کی روٹی بمشکل پکتی ہے۔ ایسے حالات میں وہ اپنے تین یا چار بچوں کو الگ الگ لنچ کیسے فراہم کریں؟ خاص طور پر لڑکیوں کے سکولوں میں نہ ٹک شاپ ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی متبادل سہولت موجود ہوتی ہے۔
دیہاتی اور پہاڑی علاقوں میں اس پالیسی کے اثرات اور بھی سنگین ہیں۔ ان علاقوں میں ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات کو طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑتے ہیں۔ اکثر بچے شام پانچ بجے کے بعد بھی اپنے گھروں تک نہیں پہنچ پاتے، جو کہ خصوصاً بچیوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش ناک صورتحال ہے۔
تعلیمی نفسیات یہ بھی بتاتی ہے کہ بچوں کو مناسب وقفہ (بریک) اور آرام کا وقت دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کی ذہنی توانائی بحال ہو سکے۔ لیکن جب بچے صبح سے بھوکے ہوں اور طویل اوقات تک کلاسز میں بیٹھے رہیں تو 50 منٹ کی بریک بھی بے معنی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ موجود ہی نہیں ہوتا۔
محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا سے گزارش ہے کہ سکولوں کے اوقات کار مقرر کرتے وقت صرف کاغذی فیصلوں پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ زمینی حقائق، دیہاتی زندگی کے مسائل، ٹرانسپورٹ کی کمی، غربت، اور خصوصاً خواتین کی حفاظت کو مدنظر رکھا جائے۔ 9 گھنٹے تک بچوں کو بھوکے پیٹ سکول میں بٹھانے سے ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے۔
وقت کی اہم ضرورت ہے کہ پالیسی ساز ادارے تعلیمی نفسیات کے اصولوں، بچوں کی جسمانی و ذہنی ضروریات اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکولوں کے اوقات کار پر نظرثانی کریں، تاکہ تعلیم واقعی آسان، مؤثر اور بچوں کے لیے فائدہ مند بن سکے۔



