رمبور آیون واٹر سپلائی سکیم کھٹائی میں پڑ گیا ، 44کروڑ کا منصوبہ غلط حکمت عملی اور غیر شفاف طریقے کی وجہ سے ناکامی سے دوچار ، منصوبے سے رمبور کے لوگ پینے کے پانی ، 8 پن چکیاں اور چار بجلی گھر متاثر ہوں گے ، سیف اللہ کالاش

چترال ( محکم الدین ) آیون کیلئے چوالیس کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا واٹر سپلائی سکیم ادارے کے غیر شفاف و غلط حکمت عملی اور خود ساختہ معاہدہ نامہ کی بنا پر اب کھٹائی میں پڑ گیا ہے ۔ اور واٹر سورس کے مالک و رمبور کی کمیونٹی کے شرائط منظور نہ ہونے کی صورت میں یہ منصوبہ ختم ہونے کا امکان ہے ، رمبور کے معروف شخصیت سابق اقلیتی ممبر ڈسٹرکٹ کونسل سیف اللہ جان کالاش نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا ، کہ آیون کے چند معتبرات پبلک ہیلتھ اسٹاف کے ساتھ گاؤں رمبور کے زیر استعمال چشمہ سے واٹر سپلائی سکیم کے ذریعے پینے کا پانی آیون لے جانے کی خواہش لئے ہمارے پاس آئے تھے ، ہم نے بھائی چارہ اور قریبی تعلقات کی بنیاد پر اس کی حامی بھری تھی ،اسوقت ادارے کی طرف سے یہ نہیں بتایا گیا تھا ، کہ دس انچ قطر پائپ لائن سے پینے کاپانی آیون لے جایا جائے گا ، اب معلوم ہو اہے ، کہ وہ ہمارے زیر استعمال چشمے کے پانی کو دس انچ قطر والے پائپ میں آیون لے جانے کا منصوبہ بنا چکے ہیں ۔ اور اسے باقاعدہ پراجیکٹ کی صورت میں افتتاح بھی کیا گیا ہے ۔ جو کہ قابل افسوس ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے نا قابل قبول ہے ،
انہوں نے کہا ، کہ محکمہ پبلک ہیلتھ چترال لوئر میری ذاتی ملکیتی قدرتی چشمہ( کھس سائیکی نتتھو ن رمبور ) ان شرائط پر پراجیکٹ کیلئے استعمال کر سکتا ہے ، کہ نالہ رمبور کا پانی کم ہونے پر یہ چشمہ حسب سابق رمبور کے دیہات پینے ، پن چکیوں اور بجلی گھروں کیلئے استعمال کریں گے ۔ اور گرمیوں میں رمبور نالے کا پانی زیادہ ہونے کی صورت میں یہ چشمہ آیون والے پینے کیلئے استعمال میں لائیں گے ۔ یعنی یہ پانی سیزنل بنیاد پر ہماری مرضی کے مطابق استعمال کیا جاسکے گا ، اس کے علاؤہ محکمہ پبلک ہیلتھ دو ملازمتیں دینے کا بھی پابند ہو گا ۔
انہوں نے کہا ۔ کہ سردیوں میں نالہ رمبور کا پانی مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے ۔ اور وادی کے لوگوں کی 8 پن چکیوں اور دو مقامی منی ہائیڈل پاور سٹیشن کے چلانے کا انحصار اس چشمے کے پانی پر ہے ، نیز آیون گول میں ایس آر ایس پی بجلی گھر ، اور آیون ہائیڈل پاور اسٹیشن جس پانی سے بجلی پیدا کرتے ہیں ، اس میں اس چشمے کے پانی کا کافی حصہ شامل ہے ۔
دریں اثنا ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے ۔ کہ ایون واٹر سپلائی سکیم کو قابل عمل بنانے کیلئے رمبور کے عمائدین خصوصا سابق ممبر ڈسٹرکٹ کونسل سیف اللہ جان سے منسوب جو معاہدہ نامہ بنایا گیا ہے ۔ وہ جعلی طور پر تیار کیا گیا ہے ۔ اس معاہدہ نامہ کے بارے میں پبلک ہیلتھ نے سیف اللہ سے رابطہ کیا ہے ، اور نہ معاہدے پر اس کے دستخط ثبت ہیں ۔ یوں ایک بڑے منصوبے کیلئے ادارے نے صاف و واضح طریقہ کار اپنانے کی بجائے غیر واضح اور غیر قانونی طریقہ کار اپنایا ، جس سے اب اس پراجیکٹ کی تعمیر کے امکانات مسدود ہو گئے ہیں ۔
اس پراجیکٹ کے حوالے سے آیون ون کے رہائشیوں کا کہنا ہے ، کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آیون گول نالے میں آنے والے سیلاب اور پہاڑی تودوں کے گرنے کے مسلسل واقعات کی وجہ سے رمبور سے آنے والے واٹر سپلائی کا یہ منصوبہ فیزیبل ہی نہیں ہے ۔ کیونکہ جو ادارہ گوراپون میں فلٹر یشن سسٹم کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کرکے تین کلومیٹر فاصلے پر پراجیکٹ کو کامیاب نہیں کر سکا ، وہ 20 کلومیٹر طویل فاصلے سے پائپ بچھا کر سیلاب اور سلائیڈنگ سے بچا کر پراجیکٹ کو کیسے کامیاب کر سکتا ہے ۔ جبکہ موجودہ وقت میں کالاش ویلیز روڈ بھی زیر تعمیر ہے ، جس کی تکمیل میں کئی عرصہ لگ سکتا ہے ، اس لئے یہ ایک ناقابل عمل اور کرپشن کا راستہ ہموار کرنے کا منصوبہ ہے ۔ اس پراجیکٹ کی مستقل کامیابی کےامکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ،
عوامی حلقوں نے اس امر کا بھی اظہار کیا ہے ۔ کہ محکمہ پبلک ہیلتھ اگر آیون کو صاف و شفاف پینے کا پانی مہیا کرنا چاہتا ہے ، تو اس کیلئے آیون درخناندہ میں سولر سسٹم کے ذریعے پانی فراہم کرنے کیلئے ادارے کی طرف سے تقریبا دو سال پہلے جو سروے اور فزیبلٹی رپورٹ تیار کیا گیاتھا ، اس پر عمل درآمد کرکے کام کا آغاز کرے ، یہ منصوبہ 20 کلومیٹر دور رمبور سے بچھائے جانے والے پائپ لائن سے زیادہ محفوظ اور قابل عمل منصوبہ ہے ۔ اور لوگ صاف پانی سے بھی مستفید ہوں گے ۔




