اسلام آباد پولیس کے لیے سوالیہ نشان۔۔۔۔۔۔تحریر ؛ شجاعت علی بہادر

اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر صرف سرکاری عمارتوں، پارلیمنٹ اور سفارت خانوں کا مرکز ہی نہیں بلکہ پاکستان کے وقار کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے سفارتکار یہاں رہتے ہیں، غیر ملکی وفود یہاں آتے ہیں اور ملک کے اہم ترین ادارے یہیں قائم ہیں۔ اسی وجہ سے عام تاثر یہ ہے کہ اسلام آباد کی سکیورٹی ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔
سیف سٹی کیمروں کا جال، جدید پولیسنگ کے دعوے اور چوبیس گھنٹے گشت کرنے والی پولیس۔ یہ سب کچھ اس بات کا یقین دلانے کے لیے کافی ہونا چاہیے کہ شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔ لیکن بعض اوقات ایک واقعہ ان تمام دعوؤں پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ 30 جنوری 2026 کی رات پیش آیا۔ اسلام آباد کے مصروف علاقے جی-9، جسے عام طور پر کراچی کمپنی کہا جاتا ہے، میں پولیس اسٹیشن سے محض دو سو میٹر کے فاصلے پر چترال اپر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان عالمگیر نواز کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا۔
یہ واقعہ نہ کسی سنسان گلی میں پیش آیا اور نہ ہی شہر کے کسی دور دراز کونے میں۔ یہ دارالحکومت کے ایسے علاقے میں ہوا جہاں دن رات لوگوں کی آمدورفت رہتی ہے اور جہاں پولیس کی موجودگی بھی معمول کی بات ہے۔
زخمی نوجوان کو فوری طور پر پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے تقریباً آٹھ گھنٹے طویل آپریشن کیا۔ یہ زندگی اور موت کی کشمکش تھی۔ آپریشن کے تقریباً دس گھنٹے بعد نوجوان کو ہوش آیا۔ ایک ہفتہ آئی سی یو میں گزارنے کے بعد اسے وارڈ منتقل کیا گیا اور پھر مزید علاج کے بعد گھر جانے کی اجازت دی گئی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ موت کے منہ سے واپس آیا۔
واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس نے تفتیش شروع کر دی۔ قریبی دکان پنجاب کیش اینڈ کیری کے کیمروں سے فائرنگ کرنے والے شخص کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔ یعنی ملزم کی ایک جھلک موجود ہے، وقوعہ کی جگہ واضح ہے اور فاصلہ پولیس اسٹیشن سے بھی زیادہ نہیں۔
اس کے باوجود آج تک، یعنی واقعے کے کئی ہفتوں بعد بھی، حملہ آور پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ دارالحکومت میں سیف سٹی کیمروں کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شہر کا بیشتر حصہ کیمروں کی نگرانی میں ہے۔ لیکن اس واقعے کے بعد یہ اطلاع سامنے آئی کہ اس مقام کی سیف سٹی ریکارڈنگ دستیاب نہیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں عام شہری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر پولیس اسٹیشن کے قریب پیش آنے والے واقعے میں بھی ملزم تک پہنچنا مشکل ہو جائے، اگر کیمروں کے باوجود ریکارڈ دستیاب نہ ہو، اور اگر تفتیش ہفتوں تک کسی واضح نتیجے تک نہ پہنچ سکے تو پھر شہری اپنے تحفظ کے بارے میں کیا سوچیں؟
یہ سوال کسی ایک ادارے یا فرد پر الزام لگانے کے لیے نہیں بلکہ ایک بڑی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہے۔ اسلام آباد پولیس کے پاس وسائل بھی ہیں، تربیت بھی اور جدید ٹیکنالوجی بھی۔ اس کے باوجود اگر ایک سنگین واقعہ اس قدر طویل عرصے تک حل نہ ہو سکے تو لازماً کہیں نہ کہیں کوئی خلا موجود ہے۔
اس لیے یہ ایک سنجیدہ اپیل ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور آئی جی اسلام آباد پولیس اس واقعے کا فوری نوٹس لیں۔ تفتیشی عمل کو تیز کیا جائے، تمام دستیاب شواہد کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
کیونکہ دارالحکومت میں انصاف کی رفتار پورے ملک کے لیے مثال بنتی ہے۔ اگر یہاں شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو سوال صرف ایک کیس کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظام پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
اور شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب آج اسلام آباد کے شہری سننا چاہتے ہیں۔



