آغاخان ایجنسی فارہیبٹاٹ چترال اور یونیورسٹی آف چترال کے اشتراک سے ورلڈ واٹر ڈے اور انٹرنیشنل ڈے آف فارسٹ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد

چترال(ڈیلی چترال نیوز)آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ پاکستان (AKAHP) چترال اور یونیورسٹی آف چترال کے اشتراک سے یورپی یونین اور پیٹرپ (PATRIP Foundation) کی مالی معاونت سے یونیورسٹی آف چترال میں ورلڈ واٹر ڈے اور انٹرنیشنل ڈے آف فارسٹ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاضر اللہ تھے۔ سیمینار میں آکاہ چترال کے مینجمنٹ، یونیورسٹی کے پروفیسرز، طلبہ و طالبات، لائن ڈیپارٹمنٹ کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حاضر اللہ نے "پانی جنگلات اور کاربن مارکٹس،بلیو اور گرین اکانمی” پر روشی ڈالی اور آپ نے کہا کہ یہ دن منانے کا مقصد چترال کی کمیونٹی کو مستقبل میں درپیش موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے رونماء ہونے والے مسائل، پانی اور جنگلات کی اہمیت، پائیدار مستقبل اور نوجوانوں میں ان مسائل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں کوئی بھی انسان یا جاندار ایسا نہیں جو جنگلات اور پانی کی کی کمی اور بےجا استعمال سے متاثر نہ ہو۔ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً چار ملین افراد پانی کی قلت کا شکار ہوتے ہیں جبکہ سالانہ 15 بلین درخت مختلف ضروریات کے لیے کاٹے جاتے ہیں، جو ماحول کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے بلیو اور گرین اکانمی کی ملکی معیشت میں اہم کردار کے حوالے بھی آگاہی دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سیمینار کا مقصد کمیونٹی کو بااختیار بنانا ہے تاکہ لوگ سسٹینیبل ڈویلپمنٹ اور سسٹینیبل ریسورس منیجمنٹ کی طرف آئیں اور گرے اکانومی سے گرین اکانومی کی طرف منتقل ہوں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چترال پورے ملک بلکہ دنیا کے لیے ایک مثال بنے گا جہاں کمیونٹی موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داری سے وسائل استعمال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ڈسپوزیبل کے بجائے سسٹینیبل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی طرف جائیں تو موجودہ چیلنجز کا بہتر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر آفسر انچارج آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ پاکستان انجینئر الطاف شاہ نے کہا کہ آکاہ تین بڑے شعبوں میں کام کر رہی ہے جن میں واٹر اینڈ سینیٹیشن ایکسٹینشن پروگرام، ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اور گرین کنسٹرکشن شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1990 سے اب تک 13 ہزار سے زائد گھروں اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو صاف پینے کا پانی فراہم کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ انفرااسٹرکچر میں گرین کنسٹرکشن کو شامل کر کے سکول، ہسپتال اور کھروں کی تعمیر کا بھی سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پانی بچاؤ مہم اور جنگلات کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی ہر فرد کو اپنے گھر سے شروع کرنی چاہیے تاکہ پوری کمیونٹی اس مہم کا حصہ بن سکے۔سیمینار سے ڈیپارٹمنٹ آف سوشیالوجی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ثناء اللہ نے "پانی اور جنگلات کے پائیدار انتظام میں صنفی شمولیت” پر اگاہی دی، باٹنی ڈیپارٹمنٹ کے حافظ اللہ نے گرین بلڈنگز کے زریعے ماحولیتی بہتری” کے عنوان پر بات کی، زؤلوجی ڈیپارٹمنٹ کے فتح الباری نے بدلتے موسم میں پانی اور جنگلات کے تحفظ میں کمیونٹی کا کردار” پر بات کی۔ دیگر مہماناں میں انجینئر ثمینہ بلقیس، سابق ماہر تعلیم ظہران شاہ، ممبر بورڈ آف ڈائریکٹر آکاہ محمد افضل نے بھی خطاب کیا۔ آکاہ کی جانب سے یونیورسٹی میں یادگاری شجرکاری مہم بھی کی گئی۔ تقریب کے اختتام پر آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کی جانب سے پرنٹرز کو شیلڈز اور رضاکاروں کو اسناد سے نوازا گیا۔












