چترال: اپریل میں سردی کی واپسی، بارشوں نے موسم بہار کا رنگ پھیکا کر دیا، سیاحت بھی متاثر

چترال(بشیرحسین آزاد)چترال میں حالیہ بارشوں نے موسم کو غیر معمولی طور پر سرد بنادیا ہے، جس کے باعث موسم بہار کی روایتی خوشگواری متاثر ہوگئی ہے۔ اپریل کا مہینہ عموماً معتدل اور خوشگوار سمجھاجاتا ہے، تاہم رواں سال مسلسل بارشوں کے باعث موسم دسمبر اور جنوری جیسی سردی کا منظر پیش کررہا ہے۔
شہریوں کے مطابق گرم کپڑوں خصوصاً جرسیوں کے بغیر گزارا مشکل ہوگیا ہے۔ سردی کی شدت کے باعث معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہورہے ہیں، جبکہ مساجد میں بھی غیر معمولی انتظامات دیکھنے میں آرہے ہیں۔
چترال کی مساجد میں عموماً دسمبر سے مارچ تک وضو کے لیے پانی گرم کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے، مگر اس سال اپریل میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ جن مساجد کے پاس لکڑی کا ذخیرہ موجود ہے وہاں پانی گرم کیا جا رہا ہے، جبکہ نمازیوں کو سردی سے بچانے کے لیے آگ جلانے کا انتظام بھی کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب گیس کی قیمتوں میں اضافے، سوختنی لکڑی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے نے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔
علاوہ ازیں، گزشتہ برسوں میں موسم بہار کے دوران بڑی تعداد میں سیاح چترال کا رخ کرتے تھے جس سے ہوٹلوں اور مقامی مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں عروج پر رہتی تھیں۔ تاہم اس سال مسلسل بارشوں، سڑکوں کی خراب صورتحال، اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فلڈ وارننگز اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات کے باعث سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
سیاحوں کی کم آمد کے باعث ہوٹل انڈسٹری اور دیگر کاروباری حلقے شدید متاثر ہوئے ہیں اور ہوٹل مالکان کو مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں کی بحالی اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ علاقے کی معیشت کو سہارا مل سکے۔



