144

بلدیاتی حکومتوں کے قیام کے بعد تمام اضلاع کی تمام ترقیاتی ضروریات پوری ہو جائیں گی،وزیراعلیٰ پرویزخٹک

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں عام آدمی کو حق اور انصاف کی فراہمی کیلئے خیبر پختونخوا حکومت جو بھی اقدامات اٹھا رہی ہے ان کی کامیابی کیلئے ہمارا لیڈر عمران خان ہمارے ساتھ کھڑا ہے جو کوئی بھی غلط کام ہر گز قبول نہیں کرتا اور وہ صوبائی حکومت کی کارکردگی سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اتحادی صوبائی حکومت نے پارٹی چیئرمین اور منشور کے مطابق بھاری اختیارات اور مالی وسائل بلدیاتی اداروں کو منتقل کر دیئے حتیٰ کہ تعلیم اور صحت جیسے محکموں میں تقرریاں اور تبادلے بھی ضلعی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں ہوں گے۔ منتخب بلدیاتی کونسلروں کا اب فرض بنتا ہے کہ وہ بلدیاتی نظام پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے عام اور خصوصاً غریب اور بے کس آدمی کی حالت بدلنے کیلئے صوبائی حکومت کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اصلاحات پر اصل عملدآمد بلدیاتی کونسلروں نے کرنا ہے جس کیلئے انہیں اختیارات دیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ٹریفک وارڈن سروس، ڈبلیو ایس ایس پی اور ریسکیو 1122سمیت دیگر سہولیات اور شہروں کی خوبصورتی کے اقدامات کو ہر ضلع تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضلع ہری پور کے 200رکنی وفد سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا علیٰ نے بتایا کہ صوبے کے تیرہ ہزار پرائمری سکولوں میں اضافی کمروں اور دس ہزار سے زائد سکولوں کی چار دیواری کی تعمیر کے علاوہ ان سکولوں میں پانی اور دیگر سہولتوں کی فراہمی کا کام بھی مطلوبہ مالی وسائل کے ساتھ ضلعی حکومتوں کے حوالے کیا جا رہا ہے اور تین سال بعد صوبہ کے کسی بھی سرکاری سکول میں کسی بھی سہولت کی کوئی کمی نہیں ہو گی۔ وفد نے پی ٹی آئی ہری پور کے رہنما یوسف ایوب خان کی قیادت میں جمعرات کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سے ملاقات کی۔ وفد میں نو منتخب بلدیاتی کونسلر، پی ٹی آئی ہری پور کے علاوہ وکلاء و تاجر تنظیموں اور چیمبر آف کامرس کے عہدیدار اور علماء شامل تھے۔ اس موقع پر یوسف ایوب خان، ہائی کورٹ بار ایبٹ آباد کے صدر جاوید خان تنولی اور رکن ضلع کونسل آغا شبیر احمد ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا اور صوبے میں تبدیلی کے اقدامات کی کامیابی پر خیبر پختونخوا حکومت اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر اکبر ایوب خان اور پارلیمانی سیکرٹری برائے اینٹی کرپشن ڈاکٹر حیدر علی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہری پور صوبے کے ان اضلاع میں شامل ہے جہاں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تمام انتخابات میں بھی پی ٹی آئی کو ہری پورمیں قومی اور صوبائی اسمبلی کی اکثریتی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ اس سے قبل یہ ضلع ایک دوسری پارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ تبدیلی صوبہ بھر میں رونما ہوئی ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبے کے عوام کرپٹ، سفارشی، حق تلفی اور بے انصافی کے نظام سے تنگ تھے چنانچہ انہوں نے عمران خان کے تبدیلی کے وژن پر اعتماد کرکے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا اور یہ ووٹ بینک مسلسل بڑھتا جا رہا ہے جس کا واضح ثبوت حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی صوبائی حکومت نے عمران خان کے وژن کے مطابق سرکاری محکموں کے نظام کو کافی حد تک درست کر دیا ہے اور نچلی سطح پر عوام کو با اختیار بنا کر وسائل بھی ان کے حوالے کر دیئے گئے ہیں اور ہر سطح کی منتخب بلدیاتی کونسلوں کے فرائض اور ان کا دائرہ کار بھی متعین کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس نظام کو صحیح طریقے سے چلایا گیا ، میرٹ پر کام کیا گیا اور کرپشن سے دامن بچایا گیا تو پھر منتخب کونسلروں اور صوبائی حکومت کا مقابلہ کوئی سیاسی قوت نہیں کر سکے گی اور خدانخواستہ اگر نظام کو بگاڑا گیا تو یہ آئندہ نسلوں پر بہت بڑا ظلم ہو گا۔ انہوں نے کونسلروں پر زور دیا کہ وہ ایک قومی سوچ کے ساتھ نئے نظام کی مستقل بنیادوں پر کامیابی میں حکومت کی مدد کریں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لوٹ مار کے عادی اور جمود کے حامی عناصر حق و انصاف کے نظام کے خلاف سرگرم ہیں اور ہمیں اپنے صوبے کو سوارنے کیلئے ایسے لوگوں کا راستہ روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس فنڈز کی کوئی کمی نہیں اور بلدیاتی حکومتوں کے قیام کے بعد تمام اضلاع کی تمام ترقیاتی ضروریات پوری ہو جائیں گی تا ہم منتخب بلدیاتی نمائندوں کو دستیاب مالی وسائل کا منصفانہ استعمال یقینی بنانا ہوگا اور صرف دور رس و پائیدار فوائد کی حامل سکیموں کو ترجیح دینا ہو گی۔ انہوں نے کونسلروں پر زور دیا کہ وہ گنتی کے چند امیروں کے بجائے ان لاکھوں غریبوں تک پہنچنے کی کوشش کریں جن کو اپنے نمائندوں کی ضرورت ہے اور جن کی خاطر صوبے کے وزیراعلیٰ، وزیروں، مشیروں اور ارکان اسمبلی نے اپنے اختیارات کی قربانی دے کر یہ اختیارات بلدیاتی کونسلروں کے حوالے کر دیئے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے بتایا کہ صوبے بھر کے اضلاع میں میڈیکل کالجوں اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں سمیت اعلیٰ تعلیم کے دیگر اداروں کی ضرو رت کا جائزہ لینے کیلئے ایک سروے کیا جا رہا ہے اور اس سروے کے حقائق کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے نئے ادارے قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈاکٹروں، ٹیچرز، نرسوں اور طبی عملے کی مطلوبہ اور مساوی تعداد تعینات کرنے کے اقدامات بھی آخری مراحل میں ہیں جس کیلئے 1500نئے ڈاکٹر بھر تی کر لئے گئے ہیں جبکہ 500مزید بھرتی کئے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں