اپر چترال بونی ہسپتال کی نجکاری/آؤٹ سورسنگ سے قبل عوامی خدشات دور کیے جائیں ۔ آل پارٹیز کا مطالبہ

آج مؤرخہ 7 اپریل 2026 کو آل پارٹیز اپر چترال کے نمائندگان کا ایک خصوصی اجلاس، مسئلہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے، زیرِ صدارت امیر جمعیت علمائے اسلام اپر چترال مولانا محمد یوسف، بونی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں تحصیل چیئرمین مستوج سردار حکیم، صدر پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال شیر حسین، انفارمیشن سیکریٹری پاکستان پیپلز پارٹی امجد علی، امیر جماعت اسلامی اپر چترال اسد الرحمٰن، سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال پرویز لال، جنرل سیکریٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) اپر چترال پرنس سلطان الملک، سابق تحصیل ناظم شمس الرحمٰن لال، سردار عجب، وور بلی، پیر ممتاز، وزیر شاہ، عبدالسلام اور دیگر پارٹی عہدیداران نے شرکت کی۔
میٹنگ کا مقصد چند روز قبل تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کو آؤٹ سورس کرنے یا نجی تحویل میں دینے کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش کے پیشِ نظر آل پارٹیز نمائندگان کی ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) اپر چترال کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کے تناظر میں اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لینا اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔یاد رہے کہ چند روز قبل ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) اپر چترال کے دفتر میں ڈپٹی اسپیکر صاحبہ کی موجودگی میں ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی تھی، جس میں نمائندگان نے ہسپتال کی آؤٹ سورسنگ کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ڈپٹی اسپیکر سے تفصیلی گفتگو کے بعد اصل صورتِ حال سے آگاہی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ڈپٹی اسپیکر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، تحصیل چیئرمین مستوج اور دیگر معززین کی موجودگی میں یہ طے پایا تھا کہ عوامی تحفظات کو دور کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال حکومت اور نجی اداروں کے مابین طے شدہ معاہدے (ٹی او آر) کی نقل فراہم کریں گے اور آل پارٹیز نمائندگان کی کمیٹی کے ساتھ ایک مفصل اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ اگر عوامی نمائندگان اس معاہدے کو عوام کے مفاد میں بہتر سمجھیں گے تو آؤٹ سورسنگ کے عمل کو تسلیم کیا جائے گا، بصورتِ دیگر کوئی بھی معاہدہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ تاہم ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال مذکورہ معاہدے کی کوئی تحریری دستاویز کمیٹی کے سامنے پیش نہ کر سکے، جس کے باعث تحفظات بدستور برقرار ہیں۔اس صورتِ حال سے عوامی خدشات کو مزید تقویت مل رہی ہے کہ ہسپتال کی نجی تحویل یا آؤٹ سورسنگ عوامی مفاد کے خلاف ہو سکتی ہے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ کوئی بھی نجی ادارہ اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے ساتھ خود نقصان برداشت نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے ہی سرمایہ کاری کرتا ہے۔اجلاس کے بعد آل پارٹیز اپر چترال کے نمائندگان نے صورتِ حال پر مزید تفصیلات حاصل کرنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپر چترال سے ملاقات کی۔ملاقات میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے صوبائی حکومت کی ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ پالیسی اور عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی، تاہم معاہدے (ٹی او آر) یا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) سے متعلق کوئی تحریری دستاویز پیش نہ کی جا سکی، جس کے باعث عوامی تحفظات اور خدشات اپنی جگہ برقرار رہے۔لہٰذا آل پارٹیز اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعے آؤٹ سورسنگ کی صوبائی پالیسی کو عوامی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوام کو مطمئن کرنے تک اس عمل کو دوسرے مرحلے (فیز) تک مؤخر کیا جائے۔مزید برآں، اجلاس نے متفقہ طور پر ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال بونی کو فوری طور پر کیٹیگری "سی” میں اپ گریڈ کیا جائے، مطلوبہ عملہ تعینات کیا جائے اور عمارت کی تعمیر مکمل کی جائے، تاکہ علاقے کے عوام کو صوبائی حکومت کے عوامی ایجنڈے "گڈ گورننس” کے تحت بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔



