70

غیرقانونی اڈّوں کی مسلسل دہشت گردی؟ ۔۔مولانامحمدنقیب اللہ رازی

ہفتہ کی صبح چترال آنے والی ایک مسافر گاڑی پھر اکسیڈنٹ ہوگئی۔اور تقریباً تیرا مسافرجان بحق ہوئے۔جن کا تعلق دروش،تورکھو کے علاوہ پنڈی سے بتائی جاتی ہے،تاہم بعض کی مکمل شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔اس موقع پر دروش کے عمائدین نے ایک بار پھر اس واقعے کو پشاور میں واقع چترال کے خانہ بدوش فلائنگ کوچ اڈوں کی دہشت گردی قرار دی۔اس سے پہلے بھی دروش اور چترال کے مختلف عمائدین کی طرف یاد دہانی کرائی گئی تھی کہ اس قسم کے اکسیڈنٹ ہونے کے اکثر واقعات محض رات کے سفر کی وجہ سے پیش آتے رہے ہیں۔ جن میں اکثر ڈرائیوروں کی غفلت اور نیند کا غلبہ ہی بتائی جاتی رہی ہے۔ جبکہ اس سے پہلے چترال کی مقامی اسمبلی کی قراردار کے ذریعے پشاور اور پنڈی سے چترال آنے والی پسنجر والی گاڑیوں کے لئے رات کا سفر بند کردیا گیا تھا،اس وقت بھی موجودہ ضلع ناظم ہی کی حکومت تھی۔جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے تھے۔اور اکسیڈنٹ کے واقعات بھی پیش نہیں آرہے تھے۔لیکن سابقہ لوکل گورنمنٹ کی مدت پوری ہونے کے بعد اڈے والوں کی من مانیاں پھر سے شروع ہوگئیں،اور یوں مسلسل انسانی جانوں سے کھیلنے کا سلسلہ پھر شدت سے شروع کیا گیا ۔چنانچہ اس بار دروش کے عمائدین نے مقامی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومت اور وزارتِ مواصلات کو بھی اس کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔اور ان اڈّوں کو بند کرکے صوبائی حکومت کے منظور شدہ اڈّوں سے ہی مسافروں کو چترال بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو ان کا یہ مطالبہ کئی سطح سے بالکل درست ہے۔اس کی بیّن وجہ یہی ہے کہ پشاور میں چترال کا کوئی اڈّا مستقل نہیں ہے۔چندایک آدمی کسی ہوٹل کے ایک کمرے کو کرائے پر لے لیتے ہیں،اور چترال کو کوئی مسافر ہوٹل میں رات گذارنے آتا ہے تو واپسی میں یہ اس کے لئے آسانی رہتی ہے کہ ٹکٹ وہیں سے لے لے۔مگر مسافروں کو ان کے دھندوں سے آگاہی کم ہی ہوتی ہے۔ان کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ چارسدہ ،حاجی کیمپ اورلاہور اڈّے سے کوئی دوسری گاڑی بھی چترال جاتی ہے کہ نہیں؟۔وہ خود کو اتنا مجبور سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اگروہ ان غیرقانونی اڈوں سے ٹکٹ نہ خریدلیں تو ان کے لئے چترال جانا ممکن ہی نہیں ہوگا۔
چنانچہ ہم نے بذات خود مشاہدہ کیا ہے کہ آج سے تیس سال پہلے پشاور سے چترال آنے کے لئے پی آئی اے ٹکٹ کی بکینگ کے جو پاپڑ بیلنے پڑتے تھے آج کل پشاور میں قائم غیرقانونی اڈوں نے مسافروں کا ایسا ہی حشر کردیا ہے۔ان اڈوں کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ ہم اس پر گفتگو نہیں کرتے ،یہ صوبائی وزارت مواصلات وٹرانسپورٹ کا معاملہ ہے۔اگر وہ ان تمام خامیوں کے باوجود بھی قانون کو پامال کرنے کی اجازت دیتی ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہے۔اور نہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ وہاں جو ہمارے چترالی بھائی چترال کے مسافروں کے لئے سہولیات فراہم کرکے اپنے لئے جورزق کماتے ہیں اس میں کوئی رکاوٹ ہو۔بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ سہولیات مزید بہتر طریقے سے بھی فراہم کی جاسکتی ہیں۔اور مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر بھی رزق کمایا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں ان اڈّوں کی چند واضح غلطیوں کی نشاندہی ضروری سمجھتا ہوں۔
(۱) پشاور اور پنڈی سے رات کوگاڑیاں چترال بھیجنے کا اصل مقصد عموماً یہی بتایاجاتا ہے کہ ٹریفک پولیس کے چالان سے بچاجاسکے۔اگر یہی وجہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اڈے والے ڈرائیور کو چند پیسوں کا فائدہ دے کر قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی پروا نہیں کرتے؟۔
(۲)ان اڈوں میں کوئی اسٹینڈ نہیں ہوتا،اس لئے شہر کے مختلف حصوں سے مسافرٹیکسی میں بڑے اڈوں تک جاتے ہیں،وہاں جاکر گاڑی کا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔کئی مرتبہ ایساہوا کہ مسافرچارسدہ ،حاجی کیمپ یالاہوراڈّا میں منتظر ہیں اور کوئی گاڑی رات آٹھ نوبجے چترال یا دیرسے پشاور آکر سواریاں اتارتی ہے تودوسری طرف اسٹارٹ بند کئے بغیر پھر پسنجر بٹھاکر چترال روانہ ہوتی ہے۔اس طر ح ایک ہی ڈرائیور مسلسل چوبیس گھنٹے گاڑی چلاتا رہتا ہے۔واپسی میں صبح کی نماز کے وقت لواری کا سفر شروع ہوتا ہے اور اکثر اکسیڈنٹ بھی اسی وقت اور اسی ایرئے میں ہوتے رہے ہیں۔
(۳) پشاور سے روانگی رات چھ سے آٹھ بجے ہواکرتی ہے،اس کی ایک بڑی خامی یہ بھی ہے کہ تب تک وہ نصف وقت سے بھی کم ہوٹل میں گزاتا ہے مگر اگلے چار بجے تک کا کرایا اداکرنا پڑتا ہے۔
(۴)ان اڈّوں میں مسافروں کے ساماں کا منہ مانگے کرایا وصول کیا جاتا ہے۔نہ وزن کی کوئی حد متیعین ہے اور نہ تعداد سواری کی اور نہ سامان کے حجم کی کوئی مقدار متعین ہے۔اور بعض مسافر بھی ٹرک پر بیلٹی کرنے کے قابل سامان کو فلائینگ کوچ پر لاددیتے ہیں۔
(۵)مقررہ کرایوں کو ہمیشہ نظرانداز کرتے ہوئے من مانی کرایا وصول کیا جاتا ہے۔
(۶) خاص کر لواری ٹاپ بند ہونے اور ٹنل سے گزرنے کے اوقات میں بھی وہ اپنے اوقات تبدیل نہیں کرتے۔جس کے نتیجے میں آج شام چھ بجے مسافر گاڑی میں سفرشروع کرتے ہیں،اور اگلے دن شام چھ بجے ان کو ٹنل سے گزرنے کا موقع ملتا ہے ،یوں چوبیس گھنٹے مسلسل مسافر گاڑی میں قید ہوکر رہ جاتے ہیں۔ تندرست مردانہ تو خیر اپنا کا م نکال لے سکتے ہیں ،لیکن ذرا ان بیمار ،ضعیف،آپریشن کئے ہوئے لوگوں اور بالخصوص خواتیں کا سوچیں،کہ ان پر کیا حال گزرتا ہوگا؟۔ جس کا ہم نے کئی بار مشاہدہ کیا ہے اور ان اڈّے والوں کو بد دعائیں دیتے ہوئے سنا ہے۔
حیرت ہے کہ یہ تمام باتیں ہماری ضلعی حکومت کو معلوم ہونے اور صوبائی حکومت کی نوٹس میں ہونے کے باوجود کوئی بھی چترال کے ان مجبورحال مسافروں کا پوچھتا تک نہیں۔اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ ایک گاڑی پشاور سے چترال تک کا سفر کرتی ہے ،اور کوئی سرکار یا ٹریفک انتظامیہ پوچھتا تک نہیں۔کئی گاڑیوں کو ہم نے دیکھا کہ جب وہ بکر آباد چترال کی چیک پوسٹ پر پہنچی ہیں تووہاں کوئی آفیسر آکے چالان کٹواتا ہے۔
ان خدشات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے چترال کے عمائدین کا مطالبہ حق بجانب ہے ۔لہٰذامقامی ضلعی حکومت اور ڈی سی اوچترال کو چاہئے کہ ان غیرقانونی اڈّوں کا سرکاری طور پرجائزہ لیں ،اور ان کو قانون کے دائرے میں کام کرنے پر مجبور کریں۔ خاص کر رات کو سفر کرنے سے قطعاً منع کیا جائے۔اور طویل مسافت والی گاڑیوں کے لئے دو دو ڈرائیور رکھنے کے قانون پر عمل درآمد کرلیا جائے۔ورنہ چترالی مسافروں کی قیمتی جانوں کا مسلسل ضیاع کا ہوتا رہے گا،جس میں مقامی حکومت اور ذمہ دار ادارے بھی شامل تصورکئے جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email