60

اگلے عام انتخابات اور خیبرپختونخواکاسیاسی منظر ۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

الیکشن 2018میں خیبرپختونخواکاسیاسی منظر کیاہوگااورنئی سیاسی بساط کیابنے گی اس حوالے سے عوامی دلچسپی بڑھنے لگی ہے اوریہی وجہ ہے کہ ہر سوانتخابی گٹھ جوڑبارے چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ہر گزرتے وقت لمحے کے ساتھ بنتی ٹوٹتی سیاسی صورتحال کے تناظرمیں جوں جوں اگلے عام انتخابات قریب آرہے ہیں عوام کو یہاں کے سیاسی مستقبل کی فکر ستانے لگتی ہے جسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انتخابی نظام کی صورت میں تشکیل پانے والی جمہوری حکومتوں کی کارکردگی سے بڑی حد تک مایوس ہونے والے عوام نے 2013 کے عام انتخابات میں تبدیلی کی خاطر تبدیلی کی علمبردارتحریک انصاف پر اعتماد کرکے اسے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچایاتاہم دعوے اور وعدے تو بہت سارے ہوئے مگر تبدیلی پھر بھی نہیں آئی اسی لئے اب عوام ششدر ہیں کہ اگلے انتخابات میں وہ ووٹ کس جماعت کودیں، عوام کی انتخابی عمل میں بڑھتی دلچسپی کی ایک وجہ پی ٹی آئی،جماعت اسلامی،پیپلزپارٹی،عوامی نیشنل پارٹی ،نون لیگ اورجے یو آئی ف جیسی سیاسی جماعتوں کی جانب سے صوبہ کے مختلف علاقوں میں بڑے بڑے جلسوں اورشمولیتی تقاریب پر مبنی غیرمعمولی سرگرمیاں ہیں۔ ا س میں تو کوئی شک نہیں کہ انجینئر امیر مقام نے جب سے نون لیگ میں شمولیت اختیارکی اور پھر وزیراعظم کے مشیر بنے وہ اونچی اڑان بھررہے ہیں اوراب جبکہ وہ مسلم لیگ نون کے صوبائی صدرمقررہوگئے ہیں توان کی سیاسی حیثیت بدلنے سے ان کی عوامی مقبولیت اور متحرک کردارمیں غیرمعمولی تیزی آگئی ہے، ضلع مردان سے منتخب ایم پی اے جمشید مہمند،پشاور سے پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر ضیاء اللہ افریدی کے بھائی ہدایت اللہ افریدی اور دیر لوئر میں کے علاقہ تالاش میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھتی اہم شخصیت عنایت الرحمان کو پارٹی میں شامل کراناانجینئرامیر مقام کے قابل ذکرکارنامے ہیں جبکہ نون لیگ کاکہنایہ ہے کہ یہ تو شروعات ہیں پکچرابھی باقی ہے اورالیکشن سے قبل خیبرپختونخواکی اہم سیاسی شخصیات ان کے قافلہ میں شامل ہونگی۔ذکرہوپیپلزپارٹی کاتواس میں کوئی شک نہیں کہ بظاہراس کی پوزیشن کمزوردکھائی دیتی ہے لیکن پیپلزپارٹی کی جڑیں عوام میں ہیں کے نعرے کوبھی نظراندازنہیں کیاجاسکتاجبکہ سیاسی تاریخ کی روسے دیکھاجائے توبعض دفعہ یہ جماعت کمزورپوزیشن کے باوجود اپ سٹ کردیتی ہے،سابق صدر مملکت اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خیبرپختونخواکارخ کرلیاہے 25 اپریل کووہ ملاکنڈڈویژن کے دورے پر آئے تھے جہاں ملاکنڈ ایجنسی میں سابق وفاقی وزیرلعل خان کی رہائش گاہ پر رات گزارنے کے بعد اگلے دن انہوں نے بدرگہ میں عوامی جلسہ سے خطاب کیاتھااس کے بعد انہیں دیر لوئر کے شہید رہنماسابق نائب ضلع ناظم ظاہرشاہ کی چوتھی برسی میں شرکت کے لئے بھی آناتھامگر سیکورٹی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے نہیں آسکے تام ان کی جگہ پارٹی کے وائس چیئرمین اور سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی آئے جلسے میں تبدیل ہونے والی برسی کی اس تقریب میں ہزاروں افرادکی شرکت علاقہ کے سیاسی افق پر پیپلزپارٹی کی موجودگی کاپیغام دے رہی تھی اس کے علاوہ 13مئی کوآصف علی زرداری صوبائی دارالحکومت پشاور بھی آئے اوریہی وہ محرکات ہیں جواس جماعت کوانتخابی میدان میں مضبوط پوزیشن میں لانے کاسبب بنیں گی ۔جمعیت علمائے اسلام بھی اپنی سرگرمیوں اوراگلے انتخابی دنگل کوجیتنے کے دعوں کے حوالے سے کسی سے پیچھے نہیں 7،8،9،اپریل کو نوشہرہ کے علاقہ اضاخیل میں صدسالہ تاسیس جمعیت عالمی کانفرنس کی صورت میں جے یو آئی ف نے غیرمعمولی طاقت کامظاہرہ کیاتھاجس میں امام کعبہ،علمائے دیوبنداور کئی دیگر ممالک کے مذہبی سکالزبھی شریک رہے تھے اور یہ ہولی سولی سیاسی سرگرمی تھی کیونکہ جے یو آئی ف کے صوبائی امیرمولاناگل نصیب خان کاکہنایہ ہے کہ عالمی کانفرنس کے انعقاد کامقصد اگلے الیکشن میں اقتداراہل لوگوں کے حوالے کرناہے،عوامی نیشنل پارٹی بھی جگہ جگہ ورکرزکنونشنزاور شمولیتی تقاریب کی صورت میں سرگرمیوں میں لگی ہوئی ہے اور پارٹی کے صوبائی صدر سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی اور مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین سمیت دیگر مرکزی اور صوبائی قیادت اپنی تئیں جاندارکرداراداکررہے ہیں اسی طرح پی ٹی آئی والے تو قوی یقین کر بیٹھے ہیں کہ الیکشن 2018میں وہ اپنی کارکردگی کی بنیادپر خیبرپختونخواکاانتخابی میدان پھر مارلیں گے تاہم ان کی کارکردگی کیارہی ہے اور کیاعوام ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اس کافیصلہ تو صوبے کے عوام ہی کریں گے،جماعت اسلامی،قومی وطن پارٹی جیسی جماعتوں کی دوڑدھوپ بھی جاری ہے اور وہ بھی اپنااعتماد عوام میں برقراررکھنے کی دعویدارہیں۔انتخابات میں کونسی جماعتیں متحدہ پلیٹ فارم سے میدان میں اتریں گی اور کس کامقابلہ کس سے ہوگااس بارے میں حتمی رائے تو نہیں دی جاسکتی البتہ عوامی حلقوں میں اس حوالے سے جواندازے لگائے جارہے ہیں ان کی روشنی میں جماعت اسلامی اورپی ٹی آئی اس وقت مخلوط صوبائی حکومت میں شامل بڑی اتحادی جماعتیں ہیں اوراگلے الیکشن میں بھی ان دونوں جماعتوں کے انتخابی اتحاد کے امکان کو رد نہیں کیاجاسکتا جس کے بارے میں مخصوص حلقے اندازے لگارہے ہیں تاہم دوسری جانب صوبہ بھر بالخصوص مالاکنڈ،مردان اور ہزارہ ڈویژن پی ٹی آئی اوراس کے اتحادیوں کاراستہ روکنے اور انتخابی دنگل جیتنے کے لئے بعض حلقے پیپلزپارٹی،اے این پی اور جے یوائی ف،بعض حلقے اے این پی،پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے اتحاد کواہم قراردے رہے ہیں جبکہ سیاسی امور کے بعض ماہرین خیال ظاہر کررہے ہیں کہ اے این پی،جے یوآئی ف اور مسلم لیگ نون کا گٹھ جوڑبھی اہم ثابت ہوسکتاہے اوراگرسیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوتو قومی وطن پارٹی اور جماعت اسلامی کو بھی اتحادی مدارکے اندررکھنے کی گنجائش موجودہے۔اگرچہ انتخابی اتحاد کے لئے چہ میگوئیاں ہورہی ہیں اور اندازے لگائے جارہے ہیں تاہم کب کیسے اور کیاہوگاحتمی طورپر کچھ نہیں کہاجاسکتا۔

Print Friendly, PDF & Email