90

معلومات تک رسائی کاقانون اورعوامی آگہی۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ (آر ٹی آئی) وہ قانون ہے جو عوام کو معلومات تک کی رسائی کاحق دیتاہے،یہ قانون خیبرپختونخوااسمبلی سے 31دسمبر2013کومنظورہواجس کے لئے 04نومبر2013کوکمیشن بنایاگیااور اس کمیشن نے 2014میں کام کاباقاعدہ آغازکیا،اگرچہ خیبرپختونخوایاملک کے دیگر صوبوں میں تین چارسال قبل رائٹ ٹوانفارمیشن(آرٹی آئی) کوباقاعدہ قانون کی شکل دے دی گئی تاہم آرٹی آئی کایک طویل تاریخی پس منظرہے جب عہد عمر فاروق میں کسی شہری نے خلیفہ وقت حضرت عمرفاروق سے سوال کیاکہ سرکاری بیت المال سے ہمیں جوکپڑے ملے ہیں اس سے ہماری صرف قمیص بنی ہے جب کہ آپ اس سے شلوارقمیص دونوں کس طرح سی چکے ہیں تب عمرفاروق کے بیٹے نے کھڑے ہوکر شہری کوجواب دیاکہ اس نے اپنے حصے کاکپڑااپنے باباکودیاہے یہیں سے آر ٹی آئی کی تاریخ شروع ہوجاتی ہے جبکہ آڑٹی آئی کادوسراتاریخی واقعہ 1776ء کو سامنے آیاجب سویڈن میں ایک پادری نے حکومتی بجٹ پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے اور اس کو پبلک کرنے کے لئے آواز اٹھائی تھی اسی طرح ذکر ہوبرصغیر پاک وہند میں آرٹی آئی کے تاریخی پس منظرکاتویہ لگ بھگ 90سالوں پر محیط ہے، وقت آگیاہے کہ حکومتوں اور سرکاری محکموں سے پکچرآف سیکریسی کو ختم کیاجائے اور کسی بھی حوالے سے معلومات تک شہریوں کی بآسانی رسائی ہو کیونکہ جب تک شہریوں کو معلومات تک کی رسائی نہیں دی جاتی تب تک اداروں کو کرپشن، بے قاعدگی اور بے ضابطگی سے صاف کرناممکن نہیں ہوگا اورآرٹی آئی کامطلب سیکریسی ورسزٹرانسپرنسی ہے اس لئے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو بھی ختم کرناہوگا جس کے نتیجے میں سب کچھ پبلک ہوجانے سے اداروں میں کرپشن اور دیگر بے قاعدگیوں کے خدشات اور امکانات خودبخودختم ہوجائیں گے، انہوں نے کہاکہ چونکہ عوام ہر قسم کی معلومات سے آگاہی چاہتے ہیں اس لئے صحافی معلومات تک رسائی چاہتے ہیں ،اگرچہ خیبرپختونخوا کے رائٹ ٹوانفارمیشن کمیشن وفاق اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے اچھااور مؤثرقانون تھاالبتہ باعث تشویش امریہ ضرورہے کہ بعض ترامیم کی وجہ سے یہ قانون قدرے کمزورپڑگیاہے بہرحال اس وقت عظمت حنیف اورکزئی رائٹ ٹوانفارمیشن کمیشن کے چیف کمشنر ہیں جواس سے قبل رائٹ ٹوسروسزایکٹ کے چیف کمشنر تھے اور ان کادعویٰ یہ ہے کہ آرٹی آئی ایکٹ انہوں نے بنایاہے اس لئے توقع کی جاسکتی کہ جس شخص نے یہ ایکٹ بنایاہے ان کی بطورچیف کمشنر تعیناتی سے اس کمیشن کی کارکردگی بہتر ہوگی،واضح ہوکہ آئین کا آرٹیکل 19-Aملک کے ہرشہری کو معلومات تک رسائی کاحق دیتاہے اوراسے اس حق سے دوررکھناقانونی لحاظ سے جرم ہے، آرٹی آئی کی تشکیل کے بعد خیبرپختونخوامی ں30ایسے سرکاری محکمے ہیں جن کے بارے میں شہری معلومات لینے کاحق رکھتے ہیں جبکہ یونیورسٹیوں اوراین جی اوز جیسے ادارے جوکسی نہ کسی حوالے سے سرکارکے ساتھ جڑے ہوئے ہیں کے بارے میں بھی معلومات لی جاسکتی ہیں،اعدادوشمار کے تناظرمیں موصولہ اطلاعات اور معلومات کے مطابق خیبرپختونخوابھرمیں سرکاری محکموں کے اندر اس وقت مجموعی طورپر623انفارمیشن آفیسرزتعینات ہیں جو شہریوں کو رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ 2013کے تحت مطلوبہ معلومات دینے کے پابند ہیں اور کوئی بھی شہری کسی بھی حوالے سے معلومات تک رسائی کے لئے سادہ کاغذپر درخواست لکھ کراپنانام ،پتہ ،شناختی کارڈنمبریاشناختی کارڈکی کاپی منسلک کرکے بھیج سکتاہے جس کے ملنے پر متعلقہ انفارمیشن آفیسر دس دنوں میں یاپھربیس دنوں میں جواب دینے کاپابند ہو گا اور اگر جواب نہ دیاگیاتورائٹ ٹوانفارمیشن کمیشن سے رابطہ کیاجاسکتاہے جو 60دنوں میں جواب دے گاجبکہ شہری کو معلومات پر مشتمل 20صفحے مفت ملیں گے اور اس سے زائد صفحوں کے پیسے چارج ہوں گے، معلومات کی فراہمی میں غفلت برتننے اور معلومات چھپانے کی کم سے کم سزاپچیس ہزارروپے مقرر ہے جبکہ یہ جرمانہ پچاس ہزارروپے یادوسال قید یابیک وقت دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں مثال اور ٹی ایم اے کوہاٹ اس کی واضح مثال ہے جس سے 25ہزاروپے جرمانہ وصول کیاجاچکاہے،اس کمیشن کے دوکمشنر ہیں جن میں ایک کاتعلق عدلیہ سے ہے جبکہ دوسراشعبہ تعلیم سے لیاگیاہے جن کی مدت تین سال مقرر ہے ،موصولہ اطلاعات کے مطابق اب تک رائٹ ٹوانفارمیش کمیشن کو 8ہزار809 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں جن میں 5ہزار327درخواستوں قابل عمل قراردیاجاچکاہے اور ان میں تین ہزاردرخواستوں میں سے 2ہزار767درخواستوں پر فیصلے دیئے جاچکے ہیں جبکہ چھ سو سے زائد درخواستیں ابھی زیرغورہیں جن پر جلد فیصلے جلد متوقع ہیں، عوام کو بروقت مؤثرمعلومات دینے کے لئے اہم ذرائع میں صحافیوں کے ساتھ ساتھ منتخب بلدیاتی عوامی نمائندے ہیں اور خیبر پختو نخوامیں اس وقت 44ہزارمنتخب بلدیاتی نمائندے ہیں جوکہ کافی بڑی تعداد ہے اس کے علاوہ کالجز اور جامعات کے طلبہ بھی معلومات کی فراہمی کاایک اہم ذریعہ ہے یہی وجہ ہے رائٹ ٹوانفارمیشن کمیشن شہریوں کو صحیح اور بروقت معلومات کی فراہمی کی غرض سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں(صحافیوں)منتخب عوامی نمائندوں اور یونیورسٹیزاورکالجزکے طلبہ پر خصوصی توجہ دے رہاہے اور گزرتے وقت کے ساتھ رائٹ ٹوانفارمیشن کمیشن کاکردارمزیدجاندار،مؤثراورفعال ہونے سے حکومتوں اور سرکاری محکموں کی کارکردگی میں غیرمعمولی شفافیت آئے گی،کرپشن کا بالواسطہ اور بلاواسطہ روک تھام ممکن ہوگااورقوم وملک ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں